ایران میں مظاہرے بے قابو، اسپتالوں اور مساجد کو نقصان، ہلاکتیں اور ہزاروں گرفتاریاں
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایران میں مہنگائی اور معاشی دباؤ کے خلاف شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہرے پُرتشدد شکل اختیار کرتے ہوئے ملک گیر بحران میں تبدیل ہو گئے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ایران کے مختلف شہروں میں مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں کے دوران درجنوں افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ معروف امریکی جریدے ٹائم میگزین نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ جھڑپوں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 217 تک پہنچ چکی ہے، تاہم ایرانی حکام کی جانب سے تاحال اس کی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ رات سے احتجاج میں غیرمعمولی شدت دیکھنے میں آئی، جس کے نتیجے میں تہران، مشہد اور دیگر بڑے شہروں میں حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے۔ مظاہرین نے سرکاری اور عوامی املاک کو نشانہ بنایا، کئی علاقوں میں توڑ پھوڑ کی گئی اور مختلف مقامات پر جلاؤ گھیراؤ کے واقعات بھی پیش آئے۔ اطلاعات کے مطابق احتجاج کے دوران 26 بینک، 25 مساجد، 2 اسپتال اور 48 فائر ٹرکوں کو نقصان پہنچایا گیا جب کہ متعدد سرکاری عمارتوں اور پولیس اسٹیشنز پر بھی حملے کیے گئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ بدامنی کے دوران کئی سیکورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں ۔ حالات پر قابو پانے کے لیے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔ اب تک تقریباً 2500 افراد کو گرفتار کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جن میں عام شہریوں کے ساتھ ساتھ کچھ سیکورٹی اہلکار بھی شامل بتائے جا رہے ہیں۔ صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر ملک کے مختلف حصوں میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی ہے تاکہ افواہوں اور احتجاجی رابطوں کو محدود کیا جا سکے۔
امریکی میڈیا کے مطابق تہران کے ایک ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دارالحکومت کے صرف 6 اسپتالوں میں 217 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں اکثریت گولی لگنے سے جاں بحق ہونے والوں کی ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن ڈی سی میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ نیوز ایجنسی نے کم از کم 63 افراد کی ہلاکت کی رپورٹ دی ہے، جن میں 49 عام شہری شامل ہیں، جس سے ہلاکتوں کے اعداد و شمار پر مختلف بیانیے سامنے آ رہے ہیں۔
ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے امریکا پر سخت الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی ہاتھ ایرانی عوام کے خون سے رنگے ہوئے ہیں جب کہ کچھ فسادی عناصر بیرونی قوتوں کو خوش کرنے کے لیے عوامی املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی صورت بیرونی مداخلت اور کرایے کے عناصر کو برداشت نہیں کرے گا ۔ انہوں نے عوام سے اتحاد برقرار رکھنے کی اپیل کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔