ابراہیمی معاہدے میں شامل ہونے کا امکان نہیں ہے، شام
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
شامی وزیرِ اطلاعات حمزہ المصطفیٰ نے کہا ہے کہ اسرائیل اب تک شام کے مختلف علاقوں پر قابض ہے، جس کی وجہ سے ہمارا ابراہیمی معاہدے میں شرکت کا امکان نہیں ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق شام کے وزیراطلاعات نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ جب تک اسرائیل شام کے مختلف علاقوں بشمول گولان کی پہاڑیوں پر قابض ہے جب تک ہمارا اس معاہدے میں شمولیت کا کوئی امکان نہیں ہے۔
یہ بات انہوں نے شامی صدر کے اس کے بیان کے تناظر میں کہی ہے جس میں شامی صدر نے کہا تھا کہ ابھی ان معاملات پر مذاکرات کے لیے مناسب وقت نہیں آیا ہے اور یہ بات ابھی بہت قبل از وقت ہے۔
قبل ازیں شامی صدر کے دورہ واشنگٹن کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس خواہش کا اظہار کیا گیا تھا کہ شام ابراہیمی معاہدے کا حصہ بن جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔