حیدرآباد الیکٹرک اور سکھر الیکٹرک کی نجکاری کیلئے ٹرانزیکشن کمیٹی قائم
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
نجکاری کمیشن بورڈ نے حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) اور سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنی (سیپکو) کی نجکاری کے لیے ٹرانزیکشن کمیٹی قائم کر دی۔
وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی کی زیرصدارت نجکاری کمیشن بورڈ کا اجلاس ہوا۔
بورڈ اجلاس میں ہاؤس بلڈنگ فائنانس کمپنی کی نجکاری کا موجودہ عمل ختم کرنے کی سفارش کی گئی، جبکہ اس کے 51 فیصد حصص کی نیلامی دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
پاکستان موٹگیج ری فائنانس کمپنی کی 4.
نجکاری بورڈ نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نجکاری پروگرام میں شامل کرنے کی سفارش کر دی۔
بورڈ نے نیو اسلام آباد ایئرپورٹ کے لیے کنسیشن ماڈل اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایئرپورٹ نجکاری میں گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ ماڈل مسترد کر کے اوپن بولی کا راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔