مری میں سیاحوں اور شہریوں کے لیے مفت وہیکل ریکوری سروس کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک : مری میں سیاحوں اور مقامی شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے سٹی ٹریفک پولیس مری نے مفت وہیکل ریکوری سروس کا آغاز کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ہل اسٹیشن میں ٹریفک کی روانی برقرار رکھنا اور ہنگامی حالات میں فوری مدد فراہم کرنا ہے۔
یہ سہولت وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایات پر شروع کی گئی، جس کے لیے جدید ریکوری گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں۔ اس اقدام میں آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور اور ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب وقاص نذیر کی کاوشیں بھی شامل ہیں۔
رمضان المبارک کے دوران شاپنگ مالزاور ریسٹورنٹس کے نئے اوقات کار؟
چیف ٹریفک آفیسر مری عمران رزاق کا کہنا تھا کہ مری اور ملحقہ علاقوں میں گاڑی خراب ہونے یا ٹریفک حادثے کی صورت میں شہریوں اور سیاحوں کو مفت ریکوری سہولت فراہم کی جائے گی، جبکہ خراب یا حادثے کا شکار گاڑیوں کو قریبی ورکشاپ منتقل کیا جائے گا۔
انہوں نے ایک حالیہ واقعے کا ذکر کیا جس میں لاہور سے آئے ایک سیاح کی گاڑی بریاں روڈ پر خراب ہو گئی۔ سیاح نے ٹریفک کنٹرول روم پر کال کی، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے گاڑی کو بحفاظت ورکشاپ منتقل کر دیا۔
سونے اور چاندی کے آج کے ریٹس ۔ہفتہ 10 جنوری، 2026
سیاح نے بروقت مدد پر وزیراعلیٰ پنجاب اور پولیس حکام کا شکریہ ادا کیا۔ ٹریفک پولیس کے مطابق یہ مفت ریکوری سروس مری آنے والے تمام سیاحوں اور مقامی افراد کے لیے دستیاب ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری معاونت یقینی بنائی جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔