پنجاب میں اسٹیج ڈراموں کی سخت نگرانی، 106 پنجابی گانوں پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
پنجاب میں اسٹیج ڈراموں کے مواد کی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے، جس کے تحت تھیٹر میں پیش کیے جانے والے 106 پنجابی گانوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ پنجاب آرٹس کونسل اور محکمہ اطلاعات و ثقافت پنجاب کے مطابق یہ اقدام اسٹیج ڈراموں کو معیاری تفریح بنانے اور فیملی تھیٹر کے فروغ کے لیے کیا گیا ہے۔ محکمے کے حکام کا کہنا ہے کہ جن گانوں پر پابندی لگائی گئی ہے، ان کی مکمل فہرست لاہور سمیت پنجاب بھر کے تمام تھیٹرز کو ارسال کر دی گئی ہے۔ اسٹیج مانیٹرنگ ٹیموں کو واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ ان گانوں کو کسی بھی صورت اسٹیج ڈراموں میں شامل یا سنسر شدہ شکل میں بھی پیش نہ کیا جائے۔ سرکاری مؤقف کے مطابق اس فیصلے کا بنیادی مقصد تھیٹر کے ماحول کو مہذب بنانا اور ناظرین کو فیملی نوعیت کی معیاری تفریح فراہم کرنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے اسٹیج ڈراموں کے معیار میں بہتری آئے گی اور تھیٹر انڈسٹری کو مثبت سمت میں لے جانے میں مدد ملے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اسٹیج ڈراموں گئی ہے
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔