data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: پاکستان میں کینسر کے مریضوں کے لیے ایک اہم اور امید افزا پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں حکومت نے ایک نجی دواساز کمپنی کے ساتھ مل کر مہنگی کینسر ادویات مفت فراہم کرنے کا معاہدہ طے کر لیا ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق وزارتِ قومی صحت اور ملٹی نیشنل دواساز کمپنی روش (Roche) کے درمیان ہونے والا یہ معاہدہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت طے پایا ہے، جس کے ذریعے پہلے مرحلے میں سیکڑوں کینسر مریضوں کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔

اس معاہدے کے تحت ابتدائی مرحلے میں تقریباً 741 کینسر مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی جائیں گی۔ ہر مریض کو اوسطاً ایک کروڑ روپے مالیت کی ادویات دی جائیں گی، جن میں سے 10 لاکھ روپے حکومتِ پاکستان جب کہ 90 لاکھ روپے نجی دواساز کمپنی فراہم کرے گی۔ حکام کے مطابق یہ پاکستان کی صحت کے شعبے میں ایک غیر معمولی قدم ہے، جس کا مقصد غریب اور مستحق مریضوں کو مہنگے علاج کے بوجھ سے نجات دلانا ہے۔

معاہدے کی تقریب کے موقع پر وفاقی سیکریٹری صحت نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے کینسر مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی جائیں گی۔

یہ ادویات حکومتِ پاکستان اور عالمی شہرت یافتہ دواساز کمپنی کے مشترکہ تعاون سے مہیا کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ 5 سالہ معاہدہ ہے، جس کے دوران ہزاروں کینسر مریض اس سہولت سے مستفید ہوں گے۔

وفاقی وزیر صحت نے اس موقع پر کہا کہ یہ سہولت بنیادی طور پر پمز اسپتال میں علاج کے لیے آنے والے اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے شہریوں کے لیے فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں اندازاً ایک کروڑ 30 لاکھ افراد مختلف بیماریوں کے باعث غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں، جن میں کینسر جیسے مہنگے علاج کے مریضوں کی تعداد بھی نمایاں ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ صحت کے شعبے میں ایسے اقدامات کیے جائیں جو عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کریں۔

حکام کے مطابق ایک کینسر مریض پر 5 سال کے دوران اوسطاً 98 لاکھ روپے تک کا خرچ آتا ہے، جو عام آدمی کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت ’’پہلے آئیے، پہلے پائیے‘‘ کی بنیاد پر منتخب مریضوں کو فی مریض تقریباً ایک کروڑ روپے مالیت کا مفت علاج فراہم کیا جائے گا۔

یہ منصوبہ ابتدائی مرحلے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ آئندہ مرحلوں میں اس کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا، جس میں پھیپھڑوں، جگر اور بریسٹ کینسر کے مریضوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان میں کینسر کے علاج کے حوالے سے ایک سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: دواساز کمپنی کینسر مریض مریضوں کو کے مطابق فراہم کی جائیں گی ایک کروڑ علاج کے کے لیے کے تحت

پڑھیں:

وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی

اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔

اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔

پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔

مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔

وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔

مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی