کراچی میں منشیات سپلائی کا آن لائن نیٹ ورک پکڑا گیا، 3 کارندے گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
کراچی:
اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ اور سی آئی اے ٹاسک فورس نے منشیات فروشوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے شہر میں آن لائن منشیات کی سپلائی کا نیٹ ورک چلانے والے گینگ کے 3 کارندوں کو گرفتار کر لیا ۔
ایس ایس پی ایس آئی یو عمران خان نے بتایا کہ ملزمان گل محمد ، یاسر اور وسیم کو ڈیفنس فیز 5 خیابان بحریہ سے گرفتار کیا گیا ۔ گرفتار ملزمان سے لاکھوں روپے مالیت کی انتہائی مہلک 300 گرام ویڈ اور ملزمان کے زیر استعمال آلٹو کار برآمد کر کے قبضے میں لے لی گئی ہے ۔ ملزمان سے برآمد کی جانے والی منشیات کی قیمت 25 لاکھ روپے سے زائد ہے ۔
گرفتار ملزمان شہر کے پوش علاقوں میں آن لائن نیٹ ورک استعمال کرکے منشیات ڈیلیور کرتے تھے ۔ ملزمان سوشل ایپلی کیشن کے ذریعے آن لائن منشیات کا آرڈر بھی لیتے تھے ، اسی طرح کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ کو بھی منشیات فروخت کی جاتی تھی ۔
ملزمان کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ حاصل کیا جارہا ہے جب کہ ملزمان کے خلاف مزید قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جارہی ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آن لائن
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک