عجیب عادت: کئی برس سے ناک کے ذریعے خوراک لینے والی امریکی خاتون
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا میں ایک خاتون کی انوکھی اور حیران کن عادت نے دنیا بھر میں توجہ حاصل کر لی ہے، جو گزشتہ 5 برس سے اپنی خوراک منہ کے بجائے ناک کے ذریعے لے رہی ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ غیر معمولی واقعہ امریکی ٹی وی شو ’’مائی اسٹرینج ایڈکشنز‘‘ کے ساتویں سیزن میں سامنے آیا، جہاں ورجینیا سے تعلق رکھنے والی خاتون کیتھرین نے اپنی اس عجیب عادت کا انکشاف کیا۔
کیتھرین کے مطابق ان کا کھانے کے ساتھ تعلق شروع میں بالکل عام تھا اور کمیونٹی کالج تک وہ بھی دیگر افراد کی طرح منہ کے ذریعے ہی خوراک لیا کرتی تھیں، تاہم ایک دن یہ سب ایک چیلنج کے طور پر شروع ہوا، جب انہوں نے تجسس میں فلیورڈ فروٹ ڈرنک ناک کے ذریعے پینے کی کوشش کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس تجربے کے بعد انہیں چکر ضرور آئے، لیکن ذائقہ انہیں منہ کے ذریعے مشروب پینے کے مقابلے میں کہیں زیادہ محسوس ہوا۔
کیتھرین نے بتایا کہ اسی ایک تجربے نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا اور رفتہ رفتہ وہ تمام کھانے ناک کے ذریعے لینے لگیں۔ گزشتہ تقریباً 5 برس سے وہ اپنی روزمرہ کی ہر خوراک کو بلینڈر میں پیس کر مائع شکل میں ناک کے ذریعے استعمال کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق وہ پالک اور مشروم کو آملیٹ کے ساتھ بلینڈ کرتی ہیں، لیکویڈ پالک اور اسٹیک، کافی، حتیٰ کہ تیکھا گواکامول بھی ناک کے ذریعے نوش کرتی ہیں۔
خاتون کا کہنا ہے کہ انہیں اس عمل سے کسی قسم کی جسمانی تکلیف یا نقصان محسوس نہیں ہوتا اور وہ خود کو بالکل ٹھیک سمجھتی ہیں، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ عادت ان کی سماجی زندگی کو متاثر کر رہی ہے۔ ان کے مطابق دوست احباب اور خاندان کے افراد اس عادت کو سمجھ نہیں پاتے، جس کی وجہ سے وہ آہستہ آہستہ ان سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق ناک کے ذریعے خوراک لینے سے سانس کی نالی، ناک کے پردے اور پھیپھڑوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو سکتا ہے، تاہم کیتھرین اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ انہیں اس سے کوئی نقصان نہیں ہو رہا۔
ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ بعض اوقات اس طرح کی عادات ذہنی رجحانات یا مخصوص نفسیاتی کیفیات کا نتیجہ بھی ہو سکتی ہیں۔ یہ واقعہ نہ صرف سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن چکا ہے بلکہ انسانی عادات کی پیچیدگیوں پر بھی کئی سوالات اٹھا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ناک کے ذریعے کے مطابق
پڑھیں:
حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سکیورٹی ٹیم سے وابستہ ایک خفیہ سروس اہلکار کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اہلکار پر الزام ہے کہ اس نے نائب صدر کے سفری انتظامات سے متعلق حساس معلومات میڈیا تک پہنچائیں۔
امریکی خفیہ سروس کے ترجمان انتھونی گگلیلمی نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ نائب صدر کے حفاظتی یونٹ کے ایک رکن کے خلاف انتظامی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ممکنہ طور پر فوجداری تحقیقات بھی کی جا سکتی ہیں۔
ترجمان کے مطابق اہلکار پر آپریشنل اور معلوماتی سکیورٹی سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ایسی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو کسی اعلیٰ سرکاری شخصیت کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتی ہو۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک امریکی نشریاتی ادارے نے رپورٹ شائع کی کہ نائب صدر جے ڈی وینس اپنی سکیورٹی ٹیم سے بعض ذاتی نوعیت کے سفری انتظامات کی درخواست کرتے رہے ہیں، جس پر بعض اہلکار ناراضی کا اظہار کر رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق ان درخواستوں میں ایک واقعہ یہ بھی شامل تھا جس میں جے ڈی وینس مبینہ طور پر اپنے بیٹے کو گالف کی تربیت کے لیے ایک محفوظ گالف کورس تک فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے لے جانا چاہتے تھے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اس مقصد کے لیے ’میرین ٹو’ نامی ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کی تجویز زیر غور تھی۔ میرین ٹو وہ سرکاری ہیلی کاپٹر ہے جو امریکی نائب صدر کے سفر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
تاہم بعد ازاں خراب موسم اور گرج چمک کے باعث یہ پرواز منسوخ کر دی گئی اور منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔
تاحال جے ڈی وینس کے دفتر کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے تک خفیہ سروس نے مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف سرکاری وسائل کے استعمال بلکہ حساس سکیورٹی معلومات کے افشا سے متعلق بھی اہم سوالات اٹھا رہا ہے۔