پی ایس ایل کی نئی ٹیم سیالکوٹ کا کپتان کون ہوگا؟ حمزہ مجید نے بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
پاکستان سپر لیگ کی تاریخ کی سب سے مہنگی فرنچائز خریدنے والے حمزہ مجید نے سیالکوٹ ٹیم کے کپتان، اسکواڈ اور آئندہ منصوبوں پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔
لاہور میں نیشنل ہاکی اسٹیڈیم کے احاطے میں اسپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف لاہور کے دفتر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے حمزہ مجید نے کہا کہ پی ایس ایل میں کامیابی کی صورت میں سب سے پہلے میڈیا کے ساتھ بیٹھ کر تفصیلات شیئر کی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیالکوٹ نام اس لیے منتخب کیا گیا کیونکہ شہر کی عوام کرکٹ سے بے پناہ محبت کرتی ہے اور ایک عرصے سے اعلیٰ سطح کی کرکٹ کو مس کر رہی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل کی نئی ٹیم خریدنے والے حمزہ مجید کے پسندیدہ کھلاڑی کون ہیں؟ نام بتا دیے
انہوں نے بتایا کہ سیالکوٹ کرکٹ اسٹیڈیم کی حالت بہتر نہیں تھی اور ان کی خواہش ہے کہ اس اسٹیڈیم کو جدید معیار کے مطابق بہتر کیا جائے۔ فی الحال فیصل آباد اسٹیڈیم کو متبادل ہوم گراؤنڈ کے طور پر استعمال کرنے کا آپشن موجود ہے۔ ان کے مطابق محسن نقوی کی مکمل اسپورٹ حاصل ہے اور سیالکوٹ اسٹیڈیم کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
حمزہ مجید نے کہا کہ فرنچائز سے متعلق مشاورت جاری ہے، اگلے ہفتے آفیشل ڈاکیومنٹس پر دستخط ہوں گے اور ٹیم کے مکمل نام کا اعلان کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دیگر فرنچائز مالکان کی جانب سے بھی بھرپور تعاون حاصل ہے اور یہ تمام مالکان کے لیے ایک مثبت صورتحال ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل کی 8ویں ٹیم ‘سیالکوٹ’ 185 کروڑ روپے میں خریدنے والے حمزہ مجید کون ہیں؟
اسکواڈ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اس ماہ کے آخر تک پلئیرز ڈرافٹنگ کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔ بابر اعظم کو ٹیم میں شامل کرنا سب کی خواہش ہے۔ 6 سے 7 آسٹریلین کرکٹرز ڈرافٹ کے لیے رجسٹر ہو چکے ہیں، امید ہے ان میں سے 3 سے 4 کھلاڑی سیالکوٹ ٹیم کا حصہ بنیں گے۔
حمزہ مجید کا کہنا تھا کہ پاکستان کی موجودہ پلیئنگ الیون کے کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کرنے کی خواہش زیادہ ہے اور فرنچائز کا فوکس لوکل ٹیلنٹ کو پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ سیالکوٹ کے نوجوان کھلاڑیوں کو پرفارمنس کی بنیاد پر ٹیم میں شامل کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ سیالکوٹ ٹیم کا کپتان پاکستانی ہوگا، جبکہ کوچنگ اسٹاف میرٹ کی بنیاد پر منتخب کیا جائے گا۔ اگر موزوں مقامی کوچز دستیاب نہ ہوئے تو غیر ملکی کوچ کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل میں 2 نئی ٹیموں کی شمولیت، قومی ٹیم کے کھلاڑیوں نے کیا پیغام دیا؟
آخر میں حمزہ مجید نے بتایا کہ کرکٹ سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ ملایا گیا ہے اور ٹیپ بال کرکٹ کو بھی پروموٹ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بابز اعظإ پی ایس ایل حمزہ مجید سیالکوٹ فرنچائز کپتان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ایس ایل سیالکوٹ فرنچائز کپتان پی ایس ایل جائے گا کے لیے ہے اور
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔