امریکہ: خزانے کی تلاش میں نکلا خاندان قیمتی ہیرا دریافت کرنے میں کامیاب
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا کے آرکنساس اسٹیٹ پارکس میں ایک خاندان کے لیے سیر و تفریح ایک غیر متوقع خزانے میں بدل گئی، جب 41 سالہ جیمز وارڈ نے ایک قیمتی ہیرا دریافت کیا۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق، یہ انوکھا واقعہ 30 دسمبر کو پائیک کاؤنٹی کے مشہور کریٹر آف ڈائمنڈز اسٹیٹ پارک میں پیش آیا، جہاں 41 سالہ جیمز وارڈ نے 2.
ٹیکساس کے علاقے سائپریس سے تعلق رکھنے والے جیمز وارڈ اپنی اہلیہ الزبتھ وارڈ اور دو کم سن بیٹوں، 9 سالہ ایڈرین اور 7 سالہ آسٹن کے ساتھ پارک کی سیر پر آئے تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پارک جانے کا آئیڈیا سب سے چھوٹے بیٹے آسٹن کا تھا، جس نے ٹی وی دیکھتے ہوئے پوچھا کہ کیا ٹیکساس یا آس پاس کوئی ایسی جگہ ہے جہاں وہ کرسٹل تلاش کر سکیں۔
خاندان نے فوراً آن لائن تحقیق کی اور کریٹر آف ڈائمنڈز کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ الزبتھ وارڈ کے مطابق، انہوں نے لنک جیمز کو بھیجا تو جیمز نے کہا کہ یہ صرف چھ گھنٹے کی ڈرائیو ہے، جس پر خاندان نے سفر کا ارادہ کیا۔
ہیرا کی دریافت دوسرے دن ہوئی۔ پہلے دن سردی اور طویل چہل قدمی کے باعث خاندان تھک گیا تھا، لیکن 9 سالہ ایڈرین کی حوصلہ افزائی سے سب دوبارہ کوشش کے لیے تیار ہوئے۔ اس محنت اور قسمت کی بدولت انہیں اس قیمتی خزانے کا انعام ملا، جس نے ان کے لیے یہ چھٹی کو یادگار اور حیران کن بنا دیا۔
یہ منفرد واقعہ نہ صرف خاندان کی خوش قسمتی کی داستان ہے بلکہ اس بات کی بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ کبھی کبھار بچوں کی سادہ دلچسپی اور تجسس حیرت انگیز نتائج لا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔