ترکی نے اسرائیل کو ایران کی داخلی کشیدگی سے فائدہ اٹھانے سے خبردار کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
ترک وزیر خارجہ حاقان فدان نے ترک میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی داخلی کشیدگی سے فائدہ اٹھانے کی اسرائیلی کوششیں ناکام ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں کو اس کے حریف عناصر اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
حاقان فدان نے مزید کہا کہ اسرائیل بھی ایران کی موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے اور غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے اگلے مرحلے میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی انسانی امداد اور تعمیر نو کے لیے غزہ میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
خیال رہے کہ ایران میں پرتشدد مظاہرے 13 روز سے جاری ہیں، جن میں درجنوں افراد ہلاک اور کئی اہلکار زخمی ہوئے، املاک کو نقصان پہنچا اور تقریباً 2,500 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس بھی عارضی طور پر بند کر دی گئی ہے۔
ایرانی فوج نے کہا ہے کہ کمانڈر انچیف کی قیادت میں فوج نہ صرف دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھے گی بلکہ قومی مفادات اور عوامی املاک کے تحفظ کو بھی یقینی بنائے گی۔ فوج نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ ایران کے بچوں کے خون سے کھیلنے کی کوشش کرنے والے عناصر کے جھوٹے دعووں کے ذریعے پیدا کیے جانے والے نئے فتنوں کا بھی مقابلہ کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔