عوام سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کرنے والے ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی کون ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
ایران کے سابق بادشاہ کے بیٹے اور آخری ولی عہد رضا پہلوی نے ایرانی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ احتجاجی مظاہروں میں بھرپور شرکت کریں اور ملک گیر ہڑتالوں کو وسعت دیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق رضا پہلوی نے ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کی حمایت کرتے ہوئے عوام سے جدوجہد تیز کرنے کی اپیل کی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایران کی سڑکیں کسی جابر حکومت کی نہیں بلکہ عوام کی ملکیت ہیں اور عوامی احتجاج ہی کسی بڑی تبدیلی کا آغاز بن سکتی ہے۔
رضا پہلوی نے امید ظاہر کی کہ 14 دنوں سے جاری سڑکوں پر عوام ا اب ایک قومی تحریک میں بدل چکا ہے۔
انھوں نے مزید کہا جس کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ احتجاج کا دائرہ مزید وسیع تر ہو، تسلسل برقرار رہے اور عوام سڑکوں پر اپنا کنٹرول قائم رکھیں۔
رضا پہلوی نے سرکاری ملازمین، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں سے وابستہ افراد، ٹرک ڈرائیورز، اساتذہ، نرسوں، تعلیمی ماہرین، صنعت کاروں، کاروباری شخصیات، پنشنرز اور معاشی مشکلات کا شکار شہریوں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر ہمہ گیر ہڑتالوں اور مظاہروں کی حمایت کریں۔
رضا پہلوی کون ہیں
رضا پہلوی اکتوبر 1960 میں تہران میں پیدا ہوئے۔ وہ ایران کے آخری بادشاہ محمد رضا شاہ پہلوی کے اکلوتے بیٹے ہیں۔
شاہی خاندان کے واحد مرد وارث ہونے کے باعث ان کی پرورش خصوصی اور پرتعیش ماحول میں ہوئی۔
انہوں نے نجی اساتذہ سے تعلیم حاصل کی اور بچپن ہی سے انہیں بادشاہت کے فرائض کے لیے تیار کیا جاتا رہا۔
نوجوانی میں انہیں امریکی ریاست ٹیکساس بھیجا گیا جہاں وہ لڑاکا طیاروں کے پائلٹ کی تربیت حاصل کر رہے تھے، تاہم 1979 کے ایرانی انقلاب نے ان کے مستقبل کا رخ بدل دیا۔
انقلاب کے نتیجے میں شاہی حکومت کا خاتمہ ہوا اور امام خمینی کی حکومت قائم ہوئی جس کے بعد رضا پہلوی امریکا میں ہی مقیم ہوگئے۔
بعد ازاں انہوں نے سیاسیات کی تعلیم حاصل کی اور ایک ایرانی نژاد امریکی وکیل یاسمین پہلوی سے شادی کی، جن سے ان کی تین بیٹیاں نور، ایمان اور فرح ہیں۔
رضا پہلوی آج خود کو تخت کے دعوے دار کے بجائے قومی مصالحت کی علامت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ ایران کو آزادانہ انتخابات، قانون کی بالادستی، اور مرد و عورت کے مساوی حقوق کی جانب لے جانے میں مدد کرنا چاہتے ہیں۔
ان کے مطابق ایران کا مستقبل بادشاہت ہو یا جمہوری نظام — اس کا فیصلہ عوام کو ریفرنڈم کے ذریعے کرنا چاہیے، نہ کہ کسی فرد یا گروہ کو مسلط کرنا چاہیے۔
پہلوی خاندان کی واپسی ؟گزشتہ برسوں میں ایران میں پہلوی خاندان کے حوالے سے بحث دوبارہ زور پکڑتی نظر آئی ہے۔ 2017 کے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران بعض علاقوں میں رضا پہلوی کے دادا کے حق میں نعرے لگائے گئے۔
اسی طرح 2022 میں پولیس حراست میں مہسا امینی کی موت کے بعد شروع ہونے والے وسیع احتجاجی سلسلے نے رضا پہلوی کو ایک بار پھر عالمی میڈیا کی توجہ دلائی۔
اگرچہ انھوں نے بیرون ملک بیٹھ کر ایرانی اپوزیشن کو متحد کرنے کی کوششیں کیں تاہم ناقدین کے مطابق وہ اب تک کوئی مضبوط تنظیمی ڈھانچہ یا مؤثر آزاد میڈیا نیٹ ورک قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے جس کی وجہ سے ان کی سیاسی تحریک تسلسل برقرار نہ رکھ سکی۔
صدر ٹرمپ کی دھمکی
ادھر امریکی صدر نے دھمکی دی کی کہ اگر اب مظاہرین میں سے کوئی ایرانی سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہوا تو ایران پر بڑا حملہ کردیں گے۔
یہ دھمکی اس تناظر میں خاص اہمیت کی حامل ہوگئی کہ 3 جنوری کو امریکی فورسز نے وینزویلا پر حملہ کیا اور صدر مادورو کو اہلیہ سمیت حراست میں لیکر نیویارک لے آئے۔
جہاں اُنھیں عدالت میں منشیات اسمگلنگ جیسے سنگین جرائم پر پیش کیا گیا۔ صدر مادورو نے ان الزامات کو مسترد کیا۔
انھوں نے عدالت میں کہا کہ مجھے گرفتار نہیں بلکہ اغوا کیا گیا، میں اب بھی وینزویلا کا صدر ہوں اور یہ سیاسی مقدمات ہیں۔
جس کے بعد صدر ٹرمپ نے کہا کہ مجھے امریکی فوج کو دنیا کے کسی بھی ملک پر حملہ کرنے کا حکم دینے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رضا پہلوی نے انھوں نے
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز