اگر ایران میں لوگوں کو قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کرے گا: ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
اگر ایران میں لوگوں کو قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کرے گا: ٹرمپ WhatsAppFacebookTwitter 0 10 January, 2026 سب نیوز
واشنگٹن:(آئی پی ایس) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہےکہ امریکا نے ایران کی صورتحال پرنظررکھی ہوئی ہے اور اگر ایران میں لوگوں کو قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کرے گا۔
ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی حکومت نے برسوں اپنے عوام کے ساتھ براسلوک کیا، ایرانی حکومت کو آج اپنے عوام کی جانب سے جواب مل رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا نے ایران کی صورتحال پرنظررکھی ہوئی ہے اور اگر ایران میں لوگوں کو قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کرے گا، اس کا مطلب ایران میں فوج اتارنانہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت مصیبت میں ہے،مجھے ایسا لگتا ہے کہ ایران کے کچھ شہروں پرلوگ قابض ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر پاک بھارت جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت سمیت 8 جنگیں رکوائیں، پاک بھارت جنگ میں8 طیارے گرائے گئے، پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ صدرٹرمپ نے10 ملین جانیں بچائیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایران میں حکومت مخالف مظاہرے بے قابو، اسپتالوں اور مساجد کو نقصان، 217 افراد ہلاک ایران میں حکومت مخالف مظاہرے بے قابو، اسپتالوں اور مساجد کو نقصان، 217 افراد ہلاک خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 11 بھارتی حمایت یافتہ خوارج ہلاک وادی تیراہ میں آپریشن کی تیاری، علاقہ مکینوں کی نقل مکانی کل سے شروع ہوگی ایران میں جاری مظاہرے 100 سے زائد شہروں میں پھیل گئے، 47 افراد ہلاک چین کا پاکستانی طلبہ کو ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کے لیے مکمل فنڈڈ اسکالرشپس دینے کا اعلان پنجاب حکومت عدالتی اختیارات کی واپسی کیلئے پراپرٹی اونر شپ ایکٹ میں ترمیم پر رضامندCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔