امریکا اور اسرائیل ایران میں تشدد کو ہوا دے رہے ہیں، ایرانی سفیر
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیویارک: اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے کہا ہے کہ امریکا اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران میں اشتعال اور تشدد کو فروغ دے رہا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی سفیر نے اس حوالے سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو ایک باضابطہ خط ارسال کیا ہے جس میں امریکا کے اقدامات کو ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
ایرانی مندوب کے خط میں کہا گیا ہے کہ امریکا نہ صرف ایران میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے بلکہ اسرائیل کے ساتھ مل کر اشتعال انگیزی اور تشدد کو ہوا دے رہا ہے۔ امیر سعید ایروانی کے مطابق یہ اقدامات اقوامِ متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون اور ریاستی خودمختاری کے اصولوں کے منافی ہیں، جنہیں کسی بھی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
ایرانی سفیر نے واضح کیا کہ امریکا کی پالیسیاں غیر قانونی اور غیر ذمہ دارانہ ہیں اور ان کا مقصد ایران میں داخلی انتشار کو بڑھانا ہے۔ اس قسم کے اقدامات نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری کو ایسے اقدامات پر خاموش تماشائی نہیں بننا چاہیے۔
خط میں سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ امریکا کے اقدامات کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور عالمی قوانین کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ ایرانی مندوب کا کہنا تھا کہ اگر بین الاقوامی ادارے اس معاملے پر خاموش رہے تو یہ مستقبل میں مزید تنازعات اور بدامنی کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی نظام میں قانون کی حکمرانی سب کے لیے یکساں ہونی چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایران میں
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔