ایران میں جاری مظاہروں کے تناظر میں پاکستانی شہریوں کے لیے ہنگامی اقدامات
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
ایران میں مہنگائی اور معاشی حالات کے خلاف جاری مظاہروں کے باعث پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر پاکستان نے اپنے شہریوں کی حفاظت اور معاونت کے لیے ہنگامی اقدامات کر لیے ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق تہران میں پاکستانی سفارتخانے نے ایرانی حالات کے پس منظر میں کرائسس مینجمنٹ یونٹ قائم کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں پاکستانی شہریوں کو فوری سہولت فراہم کی جا سکے۔
ایران میں تعینات پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے بتایا کہ موجودہ حالات کے باعث پاکستانی شہریوں کے لیے 24 گھنٹے رابطے کی سہولت مہیا کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارتخانہ ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے اور شہری کسی بھی مسئلے کی صورت میں فوری رابطہ کر سکتے ہیں۔
سفارتخانے کی جانب سے 3 ذمہ دار افسران کے موبائل نمبرز کے علاوہ لینڈ لائن نمبرز بھی جاری کیے گئے ہیں تاکہ بروقت رابطہ ممکن ہو سکے۔
رابطہ نمبرز درج ذیل ہیں:
فرحان علی: 00989107648298
فیضان: 00989906824496
کاشف علی: 00989938983309
کرائسس مینجمنٹ یونٹ کے لینڈ لائن نمبرز:
00982166941388
00982166944888
پاکستانی سفارتخانے نے ایران میں موجود تمام پاکستانی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ حالات پر نظر رکھیں، غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر سفارتخانے سے رابطہ کریں۔
ایران میں پُرتشدد مظاہرے، 217 افراد ہلاکواضح رہے کہ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں مہنگائی اور معاشی بحران کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے پُرتشدد رخ اختیار کر گئے ہیں۔ مختلف شہروں میں مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 217 تک پہنچنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، جبکہ بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ، گرفتاریوں اور انٹرنیٹ بندش کے باعث ملک بھر میں کشیدگی برقرار ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کا ایرانی اپوزیشن رہنما رضا پہلوی سے ملاقات سے انکار
عالمی ذرائع ابلاغ، بالخصوص معروف امریکی جریدے ٹائم میگزین کے مطابق ایران میں حکومت مخالف مظاہروں میں گزشتہ رات سے نمایاں شدت دیکھی گئی۔ مختلف شہروں میں مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جن کے دوران سرکاری و عوامی املاک کو نشانہ بنایا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے کم از کم 26 بینکوں، 25 مساجد، 2 اسپتالوں اور 48 فائر ٹرکوں کو نقصان پہنچایا، جبکہ متعدد سرکاری عمارتوں اور پولیس اسٹیشنز پر بھی حملے کیے گئے، جن میں کئی اہلکار زخمی ہوئے۔ پرتشدد واقعات کے دوران ایمبولینسوں، بسوں اور شہریوں کی گاڑیوں کو بھی نذرِ آتش کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
ٹائم میگزین کے مطابق ایک ایرانی ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صرف تہران کے 6 اسپتالوں میں 217 مظاہرین کی ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں اکثریت گولی لگنے سے جاں بحق ہوئی۔ تاہم ایرانی حکام کی جانب سے ہلاکتوں کے اعداد و شمار کی باضابطہ تصدیق تاحال نہیں کی گئی۔
2:30 AM Tehran, Iran – right now: You are watching a revolution happening.
History in the making.
Keep talking about Iran. The mainstream media is finally reporting on it!
It's working.
Remember: the entire world is safer with a FREE IRAN.
Javid Shah!pic.twitter.com/4Wwi1hotpK
— Shirion Collective (@ShirionOrg) January 9, 2026
واشنگٹن ڈی سی میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ نیوز ایجنسی کے مطابق اب تک کم از کم 63 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں 49 عام شہری شامل ہیں۔ سکیورٹی اداروں نے تقریباً ڈھائی ہزار افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ احتجاج کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے انٹرنیٹ سروس بدستور معطل ہے۔
دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مظاہروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ہاتھ ایرانیوں کے خون سے رنگے ہیں اور کچھ فسادی عوامی املاک کو نقصان پہنچا کر امریکی صدر کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کرائے کے عناصر کو برداشت نہیں کرے گا اور قوم سے اتحاد برقرار رکھنے کی اپیل کی۔
یہ بھی پڑھیں:مظاہرین ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے احتجاج کررہے ہیں، آیت اللہ خامنہ ای کا ایران میں مظاہروں پر بیان
ایرانی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ریاستی خودمختاری کے تحفظ کو یقینی بنائے اور بیرونی مداخلت کو روکے۔ وزارت خارجہ کے مطابق ایران کے داخلی معاملات پر امریکی بیانات کھلی مداخلت اور دھوکا دہی کے مترادف ہیں۔
پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے بھی بیان میں کہا ہے کہ غیر ملکی حمایت یافتہ عناصر نے احتجاج کو تشدد کی طرف موڑنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق غیر ملکی مداخلت ریاستی خودمختاری کے اصولوں کے خلاف ہے اور ایرانی عوام کی اکثریت ریاست اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستانی شہریوں ایران میں کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔