پاکستان تحریک انصاف کو کراچی میں جلسہ کرنے کے لئے این او سی جاری
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: سندھ حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کو جلسے کیلئے باضابطہ این او سی جاری کر دیا جس کے مطابق جلسے کے دوران ایس او پی پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔ شرجیل میمن نے کہا کہ جلسے کے دوران قانون وامن کی مکمل ذمہ داری منتظمین پر عائد ہو گی۔
این او سی کے مطابق جلسے کے دوران اشتعال انگیز تقاریر سے گریز کیاجائے،جلسے کے دوران قیام امن کی ذمہ داری پی ٹی آئی پر ہو گی۔
این او سی جاری ہونے کے معاملے پر صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا کہ پی ٹی آئی کا جلسہ 11 جنوری 2026 کو باغ جناح گراؤنڈ میں ہو گا،جلسے کیلئے این او سی شرائط کے ساتھ جاری کیا گیا ہے، جلسے کے دوران قانون وامن کی مکمل ذمہ داری منتظمین پر عائد ہو گی، اشتعال انگیز تقاریر،مواد اور فرقہ وارانہ گفتگو کی اجازت نہیں، پاکستان اور ریاستی اداروں کیخلاف کسی بھی قسم کی تقریر کی اجازت نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ جلسے کے دوران ٹریفک کی روانی برقرار رکھنا منتظمین کی ذمہ داری ہے، پروگرام مقررہ وقت سے پہلے ختم کرنا لازم ہو گا، سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر اجازت منسوخ کرنے کا اختیار ضلعی انتظامیہ کے پاس ہو گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جلسے کے دوران
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی:صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔