وفاقی حکومت کسی کے اشاروں پر فیصلے کرتی ہے، سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کسی کے اشاروں پر فیصلے کرتی ہے۔
حیدر آباد میں میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاق سے خیبر پختونخوا کو حقوق نہیں مل رہے، صوبے کے عوام کے ساتھ امتیازی سلوک ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا، وفاق میں ہماری حکومت تھی، وفاقی حکومت کسی کے اشاروں پر فیصلے کرتی ہے۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ قبائلی اضلاع سے پہلی مرتبہ وزیراعلیٰ آیا ہے، دیگر صوبوں کے وزیراعلیٰ کے لیے جہاز کھڑے رہتے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ دیگر وزیراعلیٰ کی تعریفوں کے پل باندھے جاتے ہیں، یہ اختلاف میری ذات کے ساتھ نہیں صوبے کے ساتھ ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے یہ بھی کہا کہ نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کا شیئر چاروں صوبوں میں تقسیم نہیں ہو رہا، قبائلی اضلاع کو مالی نہیں صرف انتظامی شیئر میں شامل کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی کہا کہ
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔