وفاقی حکومت کسی کے اشاروں پر فیصلے کرتی ہے، سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کسی کے اشاروں پر فیصلے کرتی ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاق سے خیبر پختونخوا کو حقوق نہیں مل رہے، صوبے کے عوام کے ساتھ امتیازی سلوک ہو رہا ہے۔یہ بات انہوں نے حیدر آباد میں میڈیا سے گفتگو میںکہی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا، وفاق میں ہماری حکومت تھی، وفاقی حکومت کسی کے اشاروں پر فیصلے کرتی ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ قبائلی اضلاع سے پہلی مرتبہ وزیراعلیٰ آیا ہے، دیگر صوبوں کے وزیراعلیٰ کے لیے جہاز کھڑے رہتے ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ دیگر وزیراعلیٰ کی تعریفوں کے پل باندھے جاتے ہیں، یہ اختلاف میری ذات کے ساتھ نہیں صوبے کے ساتھ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کا شیئر چاروں صوبوں میں تقسیم نہیں ہو رہا، قبائلی اضلاع کو مالی نہیں صرف انتظامی شیئر میں شامل کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔