Express News:
2026-07-24@06:46:32 GMT

وینز ویلا

اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT

جنگِ پلاسی کے بعد انگریز میسور میں داخل ہوئے اور ٹیپو سلطان نے لڑتے لڑتے شہادت پائی، مگر انگریزوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے، اسی طرح پنوشے نے چلی میں صدر آلندے کے محل کا محاصرہ کیا اور اس نے اسی بندوق سے اپنی جان لے لی جو اس کو تحفے میں فیدل کاسترو نے کبھی دی تھی مگر ہتھیار نہیں ڈالے۔

اسی طرح مادورو، نیو یارک کی جیل میں یہ کہہ رہا ہے کہ وہ ، وینز ویلا کا آئینی صدر ہے۔ لاطینی امریکا دنیا کا ایک بدنصیب خطہ ہے جو ہمیشہ آمریتوں کے زیرِ تسلط رہا۔ سرد جنگ کے زمانے میں لاطینی امریکا سے کوئی امریکا کا اتحادی رہا اورکوئی سوویت یونین کا۔

چی گویرا ارجنٹینا کا باشندہ تھا، مگر وہ اپنے آپ کو لاطینی امریکا کا باشندہ کہتا تھا۔ اس نے کیوبا میں کاسترو کے آگسٹو کی آمریت کا خاتمہ کیا، پھر ٹراٹسکی کے فکرکو مانتے ہوئے وہ بولیویا چلا گیا، وہ پورے لا طینی امریکا کی آزادی کا خواہاں تھا اور پھر وہیں چی گویرا مارا گیا۔ 

غبارِ خاطرکے تمام باب کھل گئے جب مادردوکو امریکا کے کمانڈوز نے یرغمال بنایا۔ میری جوانی لاطینی انقلابیوں کے رومانس میں گزری۔

دنیا کا خوبصورت لٹریچر یہیں سے آیا۔ گارشیا، نرودا، بورجز، پاز۔ بین الاقوامی قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا لیکن یہاں پر ایسا ہی ہے ’’ جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ یہاں جنگل کا قانون راج کرتا ہے۔

نیتن یاہو نے جو کچھ کیا وہ انسانیت کے خلاف جرم نہیں اور مادورو نے کچھ نہ کرتے ہوئے بھی جرم کیا۔ اس کو سزا دینے کا حق صرف وینز ویلا کی عوام کے پاس ہے،کسی اورکے پاس نہیں۔

تین عظیم جنگیں، دو لگ چکی ہیں اور تیسری لگنے والی ہے، ان جنگوں نے دنیا کے نقشے تبدیل کیے۔ سرحدیں توڑیں، نئی سرحدیں بنائیں، نئی ریاستیں بنائیں اور نئی ریاستیں توڑی۔

دوسری جنگِ عظیم کے بعد اب رواں سال میں ایسا ہونے جا رہا ہے کہ دنیا کا نقشہ پھر سے تبدیلی کی طرف جا رہا ہے۔ تیسری اور شاید آخری بار کیونکہ ٹیکنالوجی کے انقلاب نے دنیا کی ریاستوں کو مدِ مقابل لا کھڑا کیا ہے۔

ریاستوں کے بیچ فاصلوں، زبانوں اور ثقافت کو قریب سے قریب ترکردیا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے زبانوں کے فاصلوں کو کم کردیا ہے، اگر میں اردو میں کہوں گا اور میرے سامنے والا اردو نہیں بلکہ انگریزی میں سمجھے اور جواب دے گا تو جدید ٹیکنالوجی ان زبانوں کو اس وقت ترجمہ کر کے دوسرے بندے تک پہنچائے گی۔ صرف کچھ ہی عرصے بعد زبانوں کے حوالے سے ایک جدید ایپ ایجاد کی جائے گی۔

پہلے جنگیں اس دنیا پر مسلط رہیں۔ دائیں بازوکی سیاست کی نفرت نے جمہوریت کو یرغمال بنایا، لیکن وہ صبح کبھی تو آئے گی اور ساحر لدھیانوی سچ ثابت ہوںگے۔ یہ ایک دھول ہے جو جلدی ہی بیٹھ جائے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ تاریخ کے اس حادثے پر انسانوں کو کتنی قیمت ادا کرنی ہوگی۔

ذوالفقار علی بھٹو نے اس ملک کو ایٹمی طاقت بنا کر فولاد کی سرحدیں دے کر گئے۔ اس قوم کو ایٹم بم دے کر انھوں نے ایک تاریخ رقم کی۔ یہ حقیقت ہے کہ ایٹمی قوت بننے کے بعد ہمیں بھوک، غربت اور بہت سے سختیاں جھیلنی پڑیں مگر سوچیں اگر ہمارے پاس ایٹم بم نہ ہوتا تو آج پاکستان کاکیا ہوتا؟

ذوالفقار علی بھٹو کہتے تھے کہ ’’ ہم گھاس کھائیں گے مگر ایٹم بم ضرور بنائیں گے‘‘ آخرکار وہ اس بم کی پاداش میں سولی چڑھ گئے۔ اس وقت جن ریاستوں کے پاس ایٹمی توانائی موجود نہیں، وہ اپنی ساخت اور وجود کو سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہی ہیں۔

یورپ جو دوسری جنگِ عظیم کا محور تھا، وہ آج بہت پیچھے ہے۔ یورپ، بغداد کی تہذیب کے بعد دنیا کی وہ دوسری بڑی تہذیب تھی جس نے دنیا میں علم و تحقیق کو اجاگرکیا۔ اب یہ مرکز ایشیاء منتقل ہو رہا ہے۔

یورپ کی بڑی فوجی طاقت روس ہے اور پوری لاطینی، شمال اور مغربی امریکا کا مرکز متحدہ امریکا ہے۔ ایشیاء کی سب سے بڑی فوجی اور معاشی طاقت چین ہے، لیکن ان تینوں میں طاقت کے لحاظ سے امریکا کو فوقیت حاصل ہے۔

اسی لیے امریکا احتساب سے بالا تر ہے،کوئی اس سے سوال نہیں کرسکتا۔ امریکا نے اسرائیل کی غزہ میں بربریت کی حمایت کی، اس وقت کہاں تھا چین اورکہاں تھا روس۔ بین الاقوامی قانون کی سب سے بڑی خلاف ورزی روس نے 2014 میں کی جب اس نے کریمیا پر چڑھائی کی۔

یوکرین پر حملہ کر کے پورے یورپ کو حیران کردیا۔ روس اور ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں تضادات کو ہوا دی کہ یوکرین پر حملے کی بات ثانوی ٹھہرے۔ دوسری طرف چین نے تائیوان کی سرحدوں پر اپنی جنگی مشقیں تیز کردیں۔

بات بڑھتے ہوئے یہاں تک پہنچی کی شام کے صدرکو بھاگنا پڑا۔ ایران اور اسرائیل آمنے سامنے ہوگئے، حوثی باغی تیز ہوگئے۔ اسرائیل نے حزب اللہ پر لبنان میں حملہ کردیا اور اسی پسِ منظر میں ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کردیا، یہاں منظرنامہ reverse ہوتا ہے۔

وہ پاکستان جو بدحالی کا شکار ہے، معاشی طور پر بے حد کمزور تھا اور جس کا دنیا میں کوئی مقام نہیں تھا، اس نے دنیا کو کر دکھایا۔ دنیا نے پاکستان کو صرف ایٹمی طاقت ہی نہیں مانا بلکہ فوجی اور دفاعی طاقت کو بھی مانا۔ پاکستان کی طرف دنیا کا رویہ تبدیل ہوا۔ ہندوستان اور افغانستان اتحادی بن گئے۔ 

ایران میں عوام مظاہرے کر رہے ہیں۔ مذہبی حکومت خود اپنے بیانیے کا شکار بن چکی ہے۔ افغانستان کی حکومت نے مذہبی انتہا پرستی کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے مگرکب تک؟ بنگلہ دیش میں، شیخ حسینہ واجد سے میرے اور میری فیملی کے دیرینہ تعلقات تھے، جب بھی ان سے ملنے کا بہانہ بنا، میں نے ان کو یہی کہا کہ پاکستان سے اتنا دور نہ جائیں۔

شیخ حسینہ واجد کی پارٹی اسی بیانیہ پر منحصر تھی، وہ ہندوستان سے بہت قریب ہوگئے اور اب جو حالات بنگلہ دیش میں ہیں وہ ڈھکے چھپے نہیں۔ اب وہاں پاکستان کے لیے نفرت نہیں، مگر گماں ایسا ہوتا ہے کہ بنگلہ دیش ابھی تک سنبھلا نہیں۔

آنے والے وقت میں ساؤتھ ایشیاء میں یقیناً بھائی چارہ ہوگا کیونکہ یہی ہمارے مفاد میں ہے کہ یہاں امن ہو اور اس خطے کو آگے لایا جائے۔ یہی بات سامراجی قوتوں کو اچھی نہیں لگتی۔

2025 ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی شکست کا سال تھا۔ امریکا نے پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے۔2025 میں پاکستان کے لیے کامیابیوں کا سال ثابت ہوا۔ ہم نے سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ کر لیا۔

دفاعی اعتبار سے ہم چین سے بہت قریب ہیں۔ ہم ایران میں آنیوالی تبدیلیوں کو بھی قریب سے دیکھ رہے ہیں اور اسرائیل کا اثرورسوخ بھی بڑھا ہے ۔ 2026 کے شروع ہوتے ہی وینز ویلا کے واقعے نے دنیا کے منظر نامے کو تبدیل کردیا ہے ۔

سوال یہ ہے کہ یہ آپریشن وینز ویلا کے اندر سے مخبری اور فوج کے گرین سگنل کے بغیر ہوا ہے تاکہ گولی نہ چلے اورکوئی جانی نقصان بھی نہ ہو اور وہاں کے صدرکو محل سے اٹھایا جائے۔
چین یہ سب دیکھتا رہا جب کہ وینز ویلا اس کا سب سے بڑا اتحادی تھا اور اب جو ایران میں ہونے جا رہا ہے، کیا وہاں بھی چین اور ایران کے اتحادی ایسے ہی دیکھتے رہیں گے؟

ہندوستان کو یہ گمان تھا کہ وہ امریکا، چین اور روس کے بعد سب سے بڑی فوجی و معاشی طاقت ہے مگر پاکستان کی اس مختصر جنگ کے بعد ہندوستان کا یہ بھرم ٹوٹ چکا ہے کہ اس دوڑ میں اب پاکستان بھی شامل ہوچکا ہے۔

ہماری ایٹمی طاقت ہم سے چھیننے کے لیے ہمیں ایران کی طرح اندر سے کھوکھلا کرنے کی سازشیں کی گئیں، ہماری کالی بھیڑیں ظاہر ہوئیں۔ ہماری صفیں اندر سے اب قدرے بہتر ہیں۔ ہم فوجی طاقت بھی ہیں اور ہم ایٹم طاقت بھی مگر ضرور اس بات ہے کہ ہمیں معاشی طور پر مضبوط بننا ہے۔ ہماری معاشی حالت اب بھی بہت کمزور ہے۔ 

ہمیں ذوالفقار علی بھٹو نے نہ صرف ایٹمی طاقت بنایا بلکہ ایک مضبوط آئین بھی دیا، مگر افسوس کہ آج وہ ہی پارٹی اپنا وقارکھو بیٹی ہے اور اس پارٹی میں کوئی ایسی شخصیت نہیں، جس کے لیے یہ نعرہ لگایا جائے کہ چاروں صوبوں کی زنجیر بے نظیر بے نظیر۔ 
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایٹمی طاقت وینز ویلا نے دنیا ہیں اور دنیا کا رہا ہے کے لیے کے بعد اور اس

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار