Express News:
2026-06-02@22:16:05 GMT

وینز ویلا

اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT

جنگِ پلاسی کے بعد انگریز میسور میں داخل ہوئے اور ٹیپو سلطان نے لڑتے لڑتے شہادت پائی، مگر انگریزوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے، اسی طرح پنوشے نے چلی میں صدر آلندے کے محل کا محاصرہ کیا اور اس نے اسی بندوق سے اپنی جان لے لی جو اس کو تحفے میں فیدل کاسترو نے کبھی دی تھی مگر ہتھیار نہیں ڈالے۔

اسی طرح مادورو، نیو یارک کی جیل میں یہ کہہ رہا ہے کہ وہ ، وینز ویلا کا آئینی صدر ہے۔ لاطینی امریکا دنیا کا ایک بدنصیب خطہ ہے جو ہمیشہ آمریتوں کے زیرِ تسلط رہا۔ سرد جنگ کے زمانے میں لاطینی امریکا سے کوئی امریکا کا اتحادی رہا اورکوئی سوویت یونین کا۔

چی گویرا ارجنٹینا کا باشندہ تھا، مگر وہ اپنے آپ کو لاطینی امریکا کا باشندہ کہتا تھا۔ اس نے کیوبا میں کاسترو کے آگسٹو کی آمریت کا خاتمہ کیا، پھر ٹراٹسکی کے فکرکو مانتے ہوئے وہ بولیویا چلا گیا، وہ پورے لا طینی امریکا کی آزادی کا خواہاں تھا اور پھر وہیں چی گویرا مارا گیا۔ 

غبارِ خاطرکے تمام باب کھل گئے جب مادردوکو امریکا کے کمانڈوز نے یرغمال بنایا۔ میری جوانی لاطینی انقلابیوں کے رومانس میں گزری۔

دنیا کا خوبصورت لٹریچر یہیں سے آیا۔ گارشیا، نرودا، بورجز، پاز۔ بین الاقوامی قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا لیکن یہاں پر ایسا ہی ہے ’’ جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ یہاں جنگل کا قانون راج کرتا ہے۔

نیتن یاہو نے جو کچھ کیا وہ انسانیت کے خلاف جرم نہیں اور مادورو نے کچھ نہ کرتے ہوئے بھی جرم کیا۔ اس کو سزا دینے کا حق صرف وینز ویلا کی عوام کے پاس ہے،کسی اورکے پاس نہیں۔

تین عظیم جنگیں، دو لگ چکی ہیں اور تیسری لگنے والی ہے، ان جنگوں نے دنیا کے نقشے تبدیل کیے۔ سرحدیں توڑیں، نئی سرحدیں بنائیں، نئی ریاستیں بنائیں اور نئی ریاستیں توڑی۔

دوسری جنگِ عظیم کے بعد اب رواں سال میں ایسا ہونے جا رہا ہے کہ دنیا کا نقشہ پھر سے تبدیلی کی طرف جا رہا ہے۔ تیسری اور شاید آخری بار کیونکہ ٹیکنالوجی کے انقلاب نے دنیا کی ریاستوں کو مدِ مقابل لا کھڑا کیا ہے۔

ریاستوں کے بیچ فاصلوں، زبانوں اور ثقافت کو قریب سے قریب ترکردیا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے زبانوں کے فاصلوں کو کم کردیا ہے، اگر میں اردو میں کہوں گا اور میرے سامنے والا اردو نہیں بلکہ انگریزی میں سمجھے اور جواب دے گا تو جدید ٹیکنالوجی ان زبانوں کو اس وقت ترجمہ کر کے دوسرے بندے تک پہنچائے گی۔ صرف کچھ ہی عرصے بعد زبانوں کے حوالے سے ایک جدید ایپ ایجاد کی جائے گی۔

پہلے جنگیں اس دنیا پر مسلط رہیں۔ دائیں بازوکی سیاست کی نفرت نے جمہوریت کو یرغمال بنایا، لیکن وہ صبح کبھی تو آئے گی اور ساحر لدھیانوی سچ ثابت ہوںگے۔ یہ ایک دھول ہے جو جلدی ہی بیٹھ جائے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ تاریخ کے اس حادثے پر انسانوں کو کتنی قیمت ادا کرنی ہوگی۔

ذوالفقار علی بھٹو نے اس ملک کو ایٹمی طاقت بنا کر فولاد کی سرحدیں دے کر گئے۔ اس قوم کو ایٹم بم دے کر انھوں نے ایک تاریخ رقم کی۔ یہ حقیقت ہے کہ ایٹمی قوت بننے کے بعد ہمیں بھوک، غربت اور بہت سے سختیاں جھیلنی پڑیں مگر سوچیں اگر ہمارے پاس ایٹم بم نہ ہوتا تو آج پاکستان کاکیا ہوتا؟

ذوالفقار علی بھٹو کہتے تھے کہ ’’ ہم گھاس کھائیں گے مگر ایٹم بم ضرور بنائیں گے‘‘ آخرکار وہ اس بم کی پاداش میں سولی چڑھ گئے۔ اس وقت جن ریاستوں کے پاس ایٹمی توانائی موجود نہیں، وہ اپنی ساخت اور وجود کو سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہی ہیں۔

یورپ جو دوسری جنگِ عظیم کا محور تھا، وہ آج بہت پیچھے ہے۔ یورپ، بغداد کی تہذیب کے بعد دنیا کی وہ دوسری بڑی تہذیب تھی جس نے دنیا میں علم و تحقیق کو اجاگرکیا۔ اب یہ مرکز ایشیاء منتقل ہو رہا ہے۔

یورپ کی بڑی فوجی طاقت روس ہے اور پوری لاطینی، شمال اور مغربی امریکا کا مرکز متحدہ امریکا ہے۔ ایشیاء کی سب سے بڑی فوجی اور معاشی طاقت چین ہے، لیکن ان تینوں میں طاقت کے لحاظ سے امریکا کو فوقیت حاصل ہے۔

اسی لیے امریکا احتساب سے بالا تر ہے،کوئی اس سے سوال نہیں کرسکتا۔ امریکا نے اسرائیل کی غزہ میں بربریت کی حمایت کی، اس وقت کہاں تھا چین اورکہاں تھا روس۔ بین الاقوامی قانون کی سب سے بڑی خلاف ورزی روس نے 2014 میں کی جب اس نے کریمیا پر چڑھائی کی۔

یوکرین پر حملہ کر کے پورے یورپ کو حیران کردیا۔ روس اور ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں تضادات کو ہوا دی کہ یوکرین پر حملے کی بات ثانوی ٹھہرے۔ دوسری طرف چین نے تائیوان کی سرحدوں پر اپنی جنگی مشقیں تیز کردیں۔

بات بڑھتے ہوئے یہاں تک پہنچی کی شام کے صدرکو بھاگنا پڑا۔ ایران اور اسرائیل آمنے سامنے ہوگئے، حوثی باغی تیز ہوگئے۔ اسرائیل نے حزب اللہ پر لبنان میں حملہ کردیا اور اسی پسِ منظر میں ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کردیا، یہاں منظرنامہ reverse ہوتا ہے۔

وہ پاکستان جو بدحالی کا شکار ہے، معاشی طور پر بے حد کمزور تھا اور جس کا دنیا میں کوئی مقام نہیں تھا، اس نے دنیا کو کر دکھایا۔ دنیا نے پاکستان کو صرف ایٹمی طاقت ہی نہیں مانا بلکہ فوجی اور دفاعی طاقت کو بھی مانا۔ پاکستان کی طرف دنیا کا رویہ تبدیل ہوا۔ ہندوستان اور افغانستان اتحادی بن گئے۔ 

ایران میں عوام مظاہرے کر رہے ہیں۔ مذہبی حکومت خود اپنے بیانیے کا شکار بن چکی ہے۔ افغانستان کی حکومت نے مذہبی انتہا پرستی کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے مگرکب تک؟ بنگلہ دیش میں، شیخ حسینہ واجد سے میرے اور میری فیملی کے دیرینہ تعلقات تھے، جب بھی ان سے ملنے کا بہانہ بنا، میں نے ان کو یہی کہا کہ پاکستان سے اتنا دور نہ جائیں۔

شیخ حسینہ واجد کی پارٹی اسی بیانیہ پر منحصر تھی، وہ ہندوستان سے بہت قریب ہوگئے اور اب جو حالات بنگلہ دیش میں ہیں وہ ڈھکے چھپے نہیں۔ اب وہاں پاکستان کے لیے نفرت نہیں، مگر گماں ایسا ہوتا ہے کہ بنگلہ دیش ابھی تک سنبھلا نہیں۔

آنے والے وقت میں ساؤتھ ایشیاء میں یقیناً بھائی چارہ ہوگا کیونکہ یہی ہمارے مفاد میں ہے کہ یہاں امن ہو اور اس خطے کو آگے لایا جائے۔ یہی بات سامراجی قوتوں کو اچھی نہیں لگتی۔

2025 ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی شکست کا سال تھا۔ امریکا نے پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے۔2025 میں پاکستان کے لیے کامیابیوں کا سال ثابت ہوا۔ ہم نے سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ کر لیا۔

دفاعی اعتبار سے ہم چین سے بہت قریب ہیں۔ ہم ایران میں آنیوالی تبدیلیوں کو بھی قریب سے دیکھ رہے ہیں اور اسرائیل کا اثرورسوخ بھی بڑھا ہے ۔ 2026 کے شروع ہوتے ہی وینز ویلا کے واقعے نے دنیا کے منظر نامے کو تبدیل کردیا ہے ۔

سوال یہ ہے کہ یہ آپریشن وینز ویلا کے اندر سے مخبری اور فوج کے گرین سگنل کے بغیر ہوا ہے تاکہ گولی نہ چلے اورکوئی جانی نقصان بھی نہ ہو اور وہاں کے صدرکو محل سے اٹھایا جائے۔
چین یہ سب دیکھتا رہا جب کہ وینز ویلا اس کا سب سے بڑا اتحادی تھا اور اب جو ایران میں ہونے جا رہا ہے، کیا وہاں بھی چین اور ایران کے اتحادی ایسے ہی دیکھتے رہیں گے؟

ہندوستان کو یہ گمان تھا کہ وہ امریکا، چین اور روس کے بعد سب سے بڑی فوجی و معاشی طاقت ہے مگر پاکستان کی اس مختصر جنگ کے بعد ہندوستان کا یہ بھرم ٹوٹ چکا ہے کہ اس دوڑ میں اب پاکستان بھی شامل ہوچکا ہے۔

ہماری ایٹمی طاقت ہم سے چھیننے کے لیے ہمیں ایران کی طرح اندر سے کھوکھلا کرنے کی سازشیں کی گئیں، ہماری کالی بھیڑیں ظاہر ہوئیں۔ ہماری صفیں اندر سے اب قدرے بہتر ہیں۔ ہم فوجی طاقت بھی ہیں اور ہم ایٹم طاقت بھی مگر ضرور اس بات ہے کہ ہمیں معاشی طور پر مضبوط بننا ہے۔ ہماری معاشی حالت اب بھی بہت کمزور ہے۔ 

ہمیں ذوالفقار علی بھٹو نے نہ صرف ایٹمی طاقت بنایا بلکہ ایک مضبوط آئین بھی دیا، مگر افسوس کہ آج وہ ہی پارٹی اپنا وقارکھو بیٹی ہے اور اس پارٹی میں کوئی ایسی شخصیت نہیں، جس کے لیے یہ نعرہ لگایا جائے کہ چاروں صوبوں کی زنجیر بے نظیر بے نظیر۔ 
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایٹمی طاقت وینز ویلا نے دنیا ہیں اور دنیا کا رہا ہے کے لیے کے بعد اور اس

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار