Jasarat News:
2026-06-02@23:54:57 GMT

کراچی میں منشیات سپلائی کا آن لائن نیٹ ورک پکڑا گیا

اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260111-08-6
کراچی (اسٹاف رپورٹر) اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ اور سی آئی اے ٹاسک فورس نے منشیات فروشوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے شہر میں آن لائن منشیات کی سپلائی کا نیٹ ورک چلانے والے گینگ کے 3 کارندوں کو گرفتار کر لیا۔ ایس ایس پی ایس آئی یو عمران خان نے بتایا کہ ملزمان گل محمد ، یاسر اور وسیم کو ڈیفنس فیز 5 خیابان بحریہ سے گرفتار کیا گیا۔ گرفتار ملزمان سے لاکھوں روپے مالیت کی انتہائی مہلک 300 گرام ویڈ اور ملزمان کے زیر استعمال آلٹو کار برآمد کر کے قبضے میں لے لی گئی ہے۔ ملزمان سے برآمد کی جانے والی منشیات کی قیمت 25 لاکھ روپے سے زاید ہے۔ گرفتار ملزمان شہر کے پوش علاقوں میں آن لائن نیٹ ورک استعمال کرکے منشیات ڈیلیور کرتے تھے۔ ملزمان سوشل ایپلی کیشن کے ذریعے آن لائن منشیات کا آرڈر بھی لیتے تھے ، اسی طرح کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ کو بھی منشیات فروخت کی جاتی تھی۔ملزمان کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ حاصل کیا جارہا ہے جبکہ ملزمان کے خلاف مزید قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جارہی ہے۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ا ن لائن

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا