سابق سینیٹر مشتاق احمد نے نئی سیاسی جماعت بنالی
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (نمائندہ جسارت) سابق سینیٹر مشتاق احمد نے نئی سیاسی جماعت پاکستان رائٹس موومنٹ کے قیام کا اعلان کردیا۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ’پاکستان رائٹس موومنٹ‘ کی باضابطہ تاسیس کی تقریب ایک نجی ہوٹل میں ہوئی۔ اس موقع پر سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے نئی سیاسی جماعت کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی 1973 کے آئین کے مطابق چلائی جائے گی جو حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کو تسلیم کرتا ہے اور اسلامی اصولوں کی ضمانت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں عام آدمی اپنے حقوق سے محروم ہے، اسی لیے ہماری پارٹی برابری کی سطح پر سب کی خدمت کرے گی، پاکستان رائٹس موومنٹ کا مقصد چند طبقات کی اجارہ داری کا خاتمہ، سماجی و معاشی انصاف، فوری اور سستا انصاف، آزادی اظہار، تعلیم و صحت کی فراہمی، غربت اور کرپشن کے خاتمے، ماورائے عدالت قتل اور ملٹری آپریشنز کے خاتمے اور وفاقی اکائیوں کے درمیان اعتماد کی بحالی ہے۔ سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے موجودہ پارلیمانی نظام کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں صحافت اور اظہار پر پابندیاں ہیں۔ بیروزگاری، مہنگائی، غذائی عدم تحفظ، منشیات، ماحولیاتی آلودگی اور کرپشن سنگین مسائل بن چکے ہیں۔ انہوں نے دفاعی بجٹ، اشرافیہ کی اجارہ داری، آئی پی پیز کو ادائیگیوں، نوجوانوں کی بدحالی اور انسانی اسمگلنگ پر بھی تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ ملٹری آپریشنز سے قبل عوام، اسمبلیوں اور علاقائی جرگوں کو اعتماد میں لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ افواج سیاسی سرگرمیوں سے اجتناب کریں، سرحدوں کو محفوظ بنایا جائے اور ملک کو درست سمت دینے کے لیے باصلاحیت اور دیانتدار قیادت سامنے لائی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سابق سینیٹر مشتاق احمد کہا کہ
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔