گڈز الائنس نمائندوں کی ملاقات، قانون کے مطابق سامان لوڈ کریں: گورنر پنجاب
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
لاہور(نیوزرپورٹر)گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ ٹریفک قوانین کی پاسداری سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع سے بچا جا سکتا ہے۔ مال بردار گاڑیاں اوورلوڈنگ سے گریز کریں۔ ٹرانسپورٹرز کے مسائل اورانہیں سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران کیا جنہوں نے ملک شہزاد اعوان کی قیادت میں گورنر ہائوس لاہور میں ان سے ملاقات کی۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ ملک بھر میں مال بردار گاڑیاں شہروں میں لوگوں کی ضروریات زندگی کی اشیا فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ٹریفک قوانین کی پاسداری پر عمل کرنا ہر ٹرانسپورٹر کی ذمہ داری ہے۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ مال بردار گاڑیاں شہروں میں داخلے کے وقت کی پابندی کریں۔انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز کو چاہئے کہ وہ قانون کے مطابق اپنی گاڑیوں پر سامان لوڈ کریں تاکہ کسی بھی قسم کے حادثے سے بچا جاسکے۔ اس موقع پر ٹرانسپورٹ الائنس کے نمائندوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹر کروڑوں روپے کا ٹول ٹیکس دے کر حکومت کو ٹیکس دیتے ہیں۔ غیر قانونی اور بلا جواز جرمانوں سے ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہورہا ہے۔نمائندوں نے کہا کہ گڈٹرانسپورٹرز کو سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہئے۔ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدرخان نے گڈٹرانسپورٹرز کے مسائل کو حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: گورنر پنجاب نے کہا کہ
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔