data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260111-03-4
باباالف
یونانی فلسفی ڈائیو جنیز کو Cynic کہا گیا جس کا مطلب ہے ’’کتا‘‘۔ وہ اس کا برا بھی نہیں مانتے تھے۔ وہ معاشرتی منافقت پر اسی طرح بھونکتے تھے جیسے کتا اجنبی پر۔ شیکسپیئر کے ڈراموں میں dog بطور گالی بھی آیا ہے اور بطور استعارہ بھی۔ فرق بولنے والے کا ہوتا ہے۔ اس فرق کو اس طرح سمجھیے: ایک صاحب گھر میں داخل ہوئے اور بیوی سے بولے ’’آج میں ٹرک کے نیچے آتے آتے رہ گیا‘‘ بیوی بولی ’’اللہ نہ کرے صائم، آپ کو میری عمر بھی لگ جائے‘‘۔ ایک دوسرے صاحب نے بھی گھر آکر بیوی سے یہی کہا ’’پینو! آج میں ٹرک دے تھلے آن لگا سی‘‘ پینو: ’’فیٹے منہ تواڈا، ایویں کتے وانگوں نہ بھونکیا کرو‘‘
کالم کا آغاز ہی کتوں پہ عنایت سے ہونے کی وجہ یہ خبر ہے ’’کراچی میں 5 دن میں کتوں کے کاٹنے کے 850 واقعات ہوئے ہیں‘‘ خبر میں یہ وضاحت نہیں کہ جن کتوں نے کاٹا ان میں کتنے چار ٹانگوں والے تھے اور کتنے دو ٹانگوں والے۔ میئر کراچی نے اس خبر کے حوالے سے فرمایا ہے ’’ہم جب بھی کتوں کے خلاف ایکشن لیتے ہیں لوگ کورٹ سے اسٹے آرڈر لے آتے ہیں‘‘ لگتا ہے یہ بیان انہوں نے ازراہ سیاست دیا ہے ورنہ کتوں کے خلاف ایکشن نہ لینے کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ایکشن میں کہیں اپنے ہی کتے نہ مارے جائیں۔ محکمہ صحت نے اس ضمن میں شہریوں کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔
امریکا میں ایک کتا کاٹ لے تو مقدمہ، انکوائری اور تین ٹی وی شوز بن جاتے ہیں۔ کراچی میں محکمہ صحت کا فقط ایک نوٹس ’’احتیاط کریں‘‘۔ کس کس سے احتیاط کریں۔ اس مہنگائی سے احتیاط کریں جو ہر وقت دانت نکوسے بڑھتی ہی رہتی ہے، ٹیکسوں سے احتیاط کریں جن کے پنجوں کی گرفت مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جارہی ہے، ترقیاتی منصوبوں سے احتیاط کریں جن کا حاصل ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور جابجا کھدے گڑھے ہیں، سیاست کے کھلے گٹروں اور سیوریج کے بہتے گندے پانی سے احتیاط کریں یا پھر اس نظام سے جس کا تعفن بڑھتا ہی جارہا ہے۔
ایک ہفتے میں 850 لوگوں کا شکار کتوں کی اعلیٰ کارگردگی کا اظہار ہے یا پھر اس کی وجہ یہ ہے کہ کاٹنے سے پہلے کتے بیان نہیں دیتے، کمیٹی نہیں بناتے، نہ کاٹنے کے وعدے نہیں کرتے، بس کاٹ لیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کتوں سے بچ کر کہاں جائیں۔ وہ کون سی جگہ ہے جہاں کتے نہیں ہیں۔ پھر یہ بابا سگ پرست والے کتے تو ہیں نہیں جو انسانوں کا لحاظ کریں۔ برائی کا جواب اچھائی سے دیں۔ یہ کتوں کی جنریشن زی ہے جو صاف کہتی ہے:
وفا کرو گے وفا کریں گے
جفا کرو گے جفا کریں گے
ہم ’’کتے‘‘ ہیں تمہارے جیسے
جو تم کرو گے وہ ہم کریں گے
مغرب میں کتا وفادار ہے، خاموش ہے اور قابل اعتبار۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل مغرب کتوں کو اپنے جیسا نہیں بناتے انہیں کتا ہی رہنے دیتے ہیں۔ وہاں کتے انسانوں سے زیادہ سمجھدار ہیں۔ وہ دوسروں کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتے۔ یہ خوبی ہمارے یہاں کے کتوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ وہ جب کھا نہیں سکتے، کاٹ نہیں سکتے، تو ٹانگ اٹھاکر پیشاب کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ کسی سے الجھتے نہیں ہیں۔ جتنا آپ لوگوں کو جانتے جائیں گے کتوں سے محبت بڑھتی جائے گی۔
850 واقعات کے ضمن میں ایک خیال یہ ہے کہ ممکن ہے کچھ غلط فہمی ہو گئی ہو۔ ممکن ہے کتے بوسہ لینا چاہتے ہوں۔ جتنے وہ انسانوں سے وفادار ہیں اتنا ہی بوسہ لینے پر یقین رکھتے ہوں۔ بہت سارے بوسے۔ 850 بوسے۔ اب دوران بوسہ دانت گوشت میں گڑ جائیں تو کتے کیا کریں۔ کتے کاٹ کر ہی بوسہ لیتے ہیں، حکومتوں کی طرح۔ یہی کتوں کے کتے پن کا تقاضا ہے۔ بعض لوگ کتا پن میں کتوں سے بھی بڑھ کر ہوتے ہیں۔ ایک صاحب لب سڑک چھولے کھا رہے تھے۔ ریڑھی کے نیچے ایک کتا سورہا تھا۔ انہوں نے پلیٹ ریڑھی پر رکھی اور کھینچ کر کتے کو لات ماردی۔ کتا ٹیائوں ٹیائوں کرتا دور جاکر کھڑا ہوگیا وہ حیران تھا کہ یہ کیا معاملہ ہے ’’کتا میں ہوں اور کتا پن یہ آدمی دکھا رہا ہے‘‘۔ بات غلط فہمی کی چلے ہے تو غلط فہمی پر دواشعار سن لیجیے
وہ کچھ سنتا تو میں کہتا مجھے کچھ اور کہنا تھا
وہ پل بھر کو جو رک جاتا مجھے کچھ اور کہنا تھا
غلط فہمی نے باتوں کو بڑھا ڈالا یونہی ورنہ
کہا کچھ تھا وہ کچھ سمجھا مجھے کچھ اور کہنا تھا
شاعر نے کہا تھا ’’محبت میں زباں چپ ہوں تو آنکھیں بات کرتی ہیں‘‘۔ زباں چپ ہونے سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاعر نے یہ بات شادی سے پہلے کہی تھی۔ شکر ہے محبوب کے دم نہیں ہوتی۔ ورنہ یہ کلاسک انڈین گانا کچھ اس طرح ہوتا:
چوری چوری آگ سی دُم میں لگا کر چل دیے
ہم تڑپ کر رہ گئے وہ مسکرا کر چل دیے
کتے آنکھوں سے محبت کا اظہار نہیں کرتے۔ محبت میں وہ صرف دم ہلاتے ہیں۔ بعض کتوں کی دم اتنی بڑی ہوتی ہے کہ ان کے دماغ کو خبر ہی نہیں ہوتی کہ دم پر کیا بیت رہی ہے۔ ایسے کتے عموماً سرکاری دفتروں میں ہوتے ہیں۔ سب سے ذلیل کتا وہ تھا جس نے یہ قانون بنایا تھا کہ بیس لاکھ تنخواہ لینے والے کو پٹرول، بجلی، گاڑی سب مفت ملے گا اور بیس ہزار تنخواہ لینے والا ہر چیز اپنی تنخواہ سے خریدے گا۔
ڈوبتی ہوئی سلطنتوں کے آخری مراحل کے رویوں کی چھے علامات بیان کی جاتی ہیں۔ پہلی جارحانہ خارجہ پالیسی، دوسری سفارت کاری کے بجائے فوجی طاقت کا استعمال، تیسری قدم قدم پر دوہرا معیار چوتھی اتحادیوں پر بہت زیادہ دبائو پانچویں داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے طرح طرح کے بہانے چھٹی اور آخری اخلاقی جواز کو مکمل نظرانداز کردینا۔ اس اعتبار سے دیکھیں تو صدر ٹرمپ اور کراچی کے کتوں کی پالیسیوں میں بدلائو یکساں ہے۔ دونوں ہی جارحیت پر اُترے ہوئے ہیں۔ صدر ٹرمپ یورپ کی کتوں والی کررہے ہیں اور کراچی کے کتے اہل کراچی کو کاٹ کاٹ کر اس بات کا اظہار کررہے ہیں کہ کراچی پر کتوں کی حکومت ہے۔ لگتا ہے کراچی کے کتوں اور سندھ حکومت میں ’’من وتو‘‘ کا فرق ختم ہو گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سے احتیاط کریں کی وجہ یہ یہ ہے کہ کتوں کے کتوں کی
پڑھیں:
بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری کل بتاریخ تین جون بروز بدھ شام چار بجے گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ کی تحصیل علی آباد کے ڈگری کالج گراؤنڈ میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گی۔ اسلام ٹائمز۔ رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری کل بتاریخ تین جون بروز بدھ شام چار بجے گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ کی تحصیل علی آباد کے ڈگری کالج گراؤنڈ میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گی۔ جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کل تین جون بروز بدھ شام پانچ بجے گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کی تحصیل چلاس میں واقع فٹبال گراؤنڈ میں انتخابی جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔