Jasarat News:
2026-07-24@05:09:39 GMT

کتوں کی حکومت

اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260111-03-4

 

باباالف

یونانی فلسفی ڈائیو جنیز کو Cynic کہا گیا جس کا مطلب ہے ’’کتا‘‘۔ وہ اس کا برا بھی نہیں مانتے تھے۔ وہ معاشرتی منافقت پر اسی طرح بھونکتے تھے جیسے کتا اجنبی پر۔ شیکسپیئر کے ڈراموں میں dog بطور گالی بھی آیا ہے اور بطور استعارہ بھی۔ فرق بولنے والے کا ہوتا ہے۔ اس فرق کو اس طرح سمجھیے: ایک صاحب گھر میں داخل ہوئے اور بیوی سے بولے ’’آج میں ٹرک کے نیچے آتے آتے رہ گیا‘‘ بیوی بولی ’’اللہ نہ کرے صائم، آپ کو میری عمر بھی لگ جائے‘‘۔ ایک دوسرے صاحب نے بھی گھر آکر بیوی سے یہی کہا ’’پینو! آج میں ٹرک دے تھلے آن لگا سی‘‘ پینو: ’’فیٹے منہ تواڈا، ایویں کتے وانگوں نہ بھونکیا کرو‘‘

کالم کا آغاز ہی کتوں پہ عنایت سے ہونے کی وجہ یہ خبر ہے ’’کراچی میں 5 دن میں کتوں کے کاٹنے کے 850 واقعات ہوئے ہیں‘‘ خبر میں یہ وضاحت نہیں کہ جن کتوں نے کاٹا ان میں کتنے چار ٹانگوں والے تھے اور کتنے دو ٹانگوں والے۔ میئر کراچی نے اس خبر کے حوالے سے فرمایا ہے ’’ہم جب بھی کتوں کے خلاف ایکشن لیتے ہیں لوگ کورٹ سے اسٹے آرڈر لے آتے ہیں‘‘ لگتا ہے یہ بیان انہوں نے ازراہ سیاست دیا ہے ورنہ کتوں کے خلاف ایکشن نہ لینے کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ایکشن میں کہیں اپنے ہی کتے نہ مارے جائیں۔ محکمہ صحت نے اس ضمن میں شہریوں کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔

امریکا میں ایک کتا کاٹ لے تو مقدمہ، انکوائری اور تین ٹی وی شوز بن جاتے ہیں۔ کراچی میں محکمہ صحت کا فقط ایک نوٹس ’’احتیاط کریں‘‘۔ کس کس سے احتیاط کریں۔ اس مہنگائی سے احتیاط کریں جو ہر وقت دانت نکوسے بڑھتی ہی رہتی ہے، ٹیکسوں سے احتیاط کریں جن کے پنجوں کی گرفت مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جارہی ہے، ترقیاتی منصوبوں سے احتیاط کریں جن کا حاصل ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور جابجا کھدے گڑھے ہیں، سیاست کے کھلے گٹروں اور سیوریج کے بہتے گندے پانی سے احتیاط کریں یا پھر اس نظام سے جس کا تعفن بڑھتا ہی جارہا ہے۔

ایک ہفتے میں 850 لوگوں کا شکار کتوں کی اعلیٰ کارگردگی کا اظہار ہے یا پھر اس کی وجہ یہ ہے کہ کاٹنے سے پہلے کتے بیان نہیں دیتے، کمیٹی نہیں بناتے، نہ کاٹنے کے وعدے نہیں کرتے، بس کاٹ لیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کتوں سے بچ کر کہاں جائیں۔ وہ کون سی جگہ ہے جہاں کتے نہیں ہیں۔ پھر یہ بابا سگ پرست والے کتے تو ہیں نہیں جو انسانوں کا لحاظ کریں۔ برائی کا جواب اچھائی سے دیں۔ یہ کتوں کی جنریشن زی ہے جو صاف کہتی ہے:

وفا کرو گے وفا کریں گے

جفا کرو گے جفا کریں گے

ہم ’’کتے‘‘ ہیں تمہارے جیسے

جو تم کرو گے وہ ہم کریں گے

مغرب میں کتا وفادار ہے، خاموش ہے اور قابل اعتبار۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل مغرب کتوں کو اپنے جیسا نہیں بناتے انہیں کتا ہی رہنے دیتے ہیں۔ وہاں کتے انسانوں سے زیادہ سمجھدار ہیں۔ وہ دوسروں کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتے۔ یہ خوبی ہمارے یہاں کے کتوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ وہ جب کھا نہیں سکتے، کاٹ نہیں سکتے، تو ٹانگ اٹھاکر پیشاب کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ کسی سے الجھتے نہیں ہیں۔ جتنا آپ لوگوں کو جانتے جائیں گے کتوں سے محبت بڑھتی جائے گی۔

850 واقعات کے ضمن میں ایک خیال یہ ہے کہ ممکن ہے کچھ غلط فہمی ہو گئی ہو۔ ممکن ہے کتے بوسہ لینا چاہتے ہوں۔ جتنے وہ انسانوں سے وفادار ہیں اتنا ہی بوسہ لینے پر یقین رکھتے ہوں۔ بہت سارے بوسے۔ 850 بوسے۔ اب دوران بوسہ دانت گوشت میں گڑ جائیں تو کتے کیا کریں۔ کتے کاٹ کر ہی بوسہ لیتے ہیں، حکومتوں کی طرح۔ یہی کتوں کے کتے پن کا تقاضا ہے۔ بعض لوگ کتا پن میں کتوں سے بھی بڑھ کر ہوتے ہیں۔ ایک صاحب لب سڑک چھولے کھا رہے تھے۔ ریڑھی کے نیچے ایک کتا سورہا تھا۔ انہوں نے پلیٹ ریڑھی پر رکھی اور کھینچ کر کتے کو لات ماردی۔ کتا ٹیائوں ٹیائوں کرتا دور جاکر کھڑا ہوگیا وہ حیران تھا کہ یہ کیا معاملہ ہے ’’کتا میں ہوں اور کتا پن یہ آدمی دکھا رہا ہے‘‘۔ بات غلط فہمی کی چلے ہے تو غلط فہمی پر دواشعار سن لیجیے

وہ کچھ سنتا تو میں کہتا مجھے کچھ اور کہنا تھا

وہ پل بھر کو جو رک جاتا مجھے کچھ اور کہنا تھا

غلط فہمی نے باتوں کو بڑھا ڈالا یونہی ورنہ

کہا کچھ تھا وہ کچھ سمجھا مجھے کچھ اور کہنا تھا

شاعر نے کہا تھا ’’محبت میں زباں چپ ہوں تو آنکھیں بات کرتی ہیں‘‘۔ زباں چپ ہونے سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاعر نے یہ بات شادی سے پہلے کہی تھی۔ شکر ہے محبوب کے دم نہیں ہوتی۔ ورنہ یہ کلاسک انڈین گانا کچھ اس طرح ہوتا:

چوری چوری آگ سی دُم میں لگا کر چل دیے

ہم تڑپ کر رہ گئے وہ مسکرا کر چل دیے

کتے آنکھوں سے محبت کا اظہار نہیں کرتے۔ محبت میں وہ صرف دم ہلاتے ہیں۔ بعض کتوں کی دم اتنی بڑی ہوتی ہے کہ ان کے دماغ کو خبر ہی نہیں ہوتی کہ دم پر کیا بیت رہی ہے۔ ایسے کتے عموماً سرکاری دفتروں میں ہوتے ہیں۔ سب سے ذلیل کتا وہ تھا جس نے یہ قانون بنایا تھا کہ بیس لاکھ تنخواہ لینے والے کو پٹرول، بجلی، گاڑی سب مفت ملے گا اور بیس ہزار تنخواہ لینے والا ہر چیز اپنی تنخواہ سے خریدے گا۔

ڈوبتی ہوئی سلطنتوں کے آخری مراحل کے رویوں کی چھے علامات بیان کی جاتی ہیں۔ پہلی جارحانہ خارجہ پالیسی، دوسری سفارت کاری کے بجائے فوجی طاقت کا استعمال، تیسری قدم قدم پر دوہرا معیار چوتھی اتحادیوں پر بہت زیادہ دبائو پانچویں داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے طرح طرح کے بہانے چھٹی اور آخری اخلاقی جواز کو مکمل نظرانداز کردینا۔ اس اعتبار سے دیکھیں تو صدر ٹرمپ اور کراچی کے کتوں کی پالیسیوں میں بدلائو یکساں ہے۔ دونوں ہی جارحیت پر اُترے ہوئے ہیں۔ صدر ٹرمپ یورپ کی کتوں والی کررہے ہیں اور کراچی کے کتے اہل کراچی کو کاٹ کاٹ کر اس بات کا اظہار کررہے ہیں کہ کراچی پر کتوں کی حکومت ہے۔ لگتا ہے کراچی کے کتوں اور سندھ حکومت میں ’’من وتو‘‘ کا فرق ختم ہو گیا ہے۔

بابا الف.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سے احتیاط کریں کی وجہ یہ یہ ہے کہ کتوں کے کتوں کی

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی