Jang News:
2026-07-24@09:10:17 GMT

کراچی: آوارہ کتوں کی بہتات، شہریوں کا گھر سے نکلنا محال

اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT

کراچی: آوارہ کتوں کی بہتات، شہریوں کا گھر سے نکلنا محال

فوٹو: فائل

کراچی میں آوارہ کتوں کی بہتات نے شہریوں کا گھر سے نکلنا محال کردیا ہے۔

رواں ماہ کے ابتدائی ہفتے میں ہی شہر میں کتے کے کاٹے کے 800 سے زائد کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، شہر میں کتوں کی تعداد میں اضافہ شہریوں کے لئے خوف کا باعث ہے۔

2022ء میں شروع ہونے والا سندھ حکومت کا ریبیز کنٹرول پروگرام مطلوبہ ہدف حاصل نہ کرسکا، بڑے بجٹ اور طویل منصوبے کے باوجود صرف محدود ویکسینیشن اور نیوٹرنگ ہوئی ہے۔

کراچی، 5 دن میں کتوں نے 850 افراد کو کاٹ لیا

کراچی میں سال 2026ء کے صرف 5 دنوں میں کتے کے کاٹنے کے 850 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

رواں سال کے پہلے ہی ہفتے میں شہر میں کتے کے کاٹے کے 800 سے زائد کیس رپورٹ ہوچکے ہیں، لیکن ریبیز کنٹرول پروگرام جس کا آغاز 2022ء میں ہوا تھا، اس کی افادیت نظر نہیں آتی۔

اس پروگرام کے تحت کتوں کو مارنے کے بجائے ان کی افزائش نسل کو روکنا تھا، لیکن 4 سال گزر گئے اور مطلوبہ اہداف حاصل نہ ہوسکے، کتوں کو جب بھی اور جہاں بھی موقع ملتا ہے، وہ شہریوں کو بھنبھوڑ ڈالتے ہیں۔

ضلع غربی، کورنگی، کیماڑی اور ملیر میں کتوں کے کاٹنے کے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے۔

کراچی میں ریبیز کنٹرول پروگرام کے تحت ٹارگٹ رکھا گیا تھا، 1 لاکھ 25 ہزار کتوں کو کور کرنا تھا، لیکن پروگرام کے لیے کے ایم سی کی صرف 4 گاڑیاں اور 2 کرائے کی گاڑیاں دستیاب ہیں۔

6 سے 7 سینٹرز کا مستقل عملہ بھی اتنا ہی ہے جبکہ پروگرام کے 96 کروڑ 30 لاکھ روپے کے بجٹ میں سے صرف 30 فیصد فنڈ استعمال ہوسکا ہے۔

ماہرین کے مطابق نیوٹرنگ ہی طویل المدتی حل ہے، لیکن پروگرام کی سست رفتاری، محدود بجٹ اور انتظامی رکاوٹوں کی وجہ سے شہری اب بھی خطرے میں ہیں۔

حکام کے مطابق کراچی میں 6 سینٹر فعال ہیں اور ملیر میں سینٹر تعمیر کے آخری مراحل میں ہے، کتوں کو پکڑ کر متعلقہ سینٹر میں لایا جاتا ہے، جہاں انہیں افزائش نسل سے روکنے کے لئے نیوٹر کیا جاتا ہے۔

کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں اضافہ تشویشناک ہے، شہریوں کو خوف سے نکالنے اور محفوظ رکھنے کے لئے آوارہ اور خطرناک کتوں کا خاتمہ ضروری ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: پروگرام کے کراچی میں کتوں کو

پڑھیں:

حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

 حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔ 

متعلقہ مضامین

  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار