کراچی: آوارہ کتوں کی بہتات، شہریوں کا گھر سے نکلنا محال
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
فوٹو: فائل
کراچی میں آوارہ کتوں کی بہتات نے شہریوں کا گھر سے نکلنا محال کردیا ہے۔
رواں ماہ کے ابتدائی ہفتے میں ہی شہر میں کتے کے کاٹے کے 800 سے زائد کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، شہر میں کتوں کی تعداد میں اضافہ شہریوں کے لئے خوف کا باعث ہے۔
2022ء میں شروع ہونے والا سندھ حکومت کا ریبیز کنٹرول پروگرام مطلوبہ ہدف حاصل نہ کرسکا، بڑے بجٹ اور طویل منصوبے کے باوجود صرف محدود ویکسینیشن اور نیوٹرنگ ہوئی ہے۔
کراچی میں سال 2026ء کے صرف 5 دنوں میں کتے کے کاٹنے کے 850 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
رواں سال کے پہلے ہی ہفتے میں شہر میں کتے کے کاٹے کے 800 سے زائد کیس رپورٹ ہوچکے ہیں، لیکن ریبیز کنٹرول پروگرام جس کا آغاز 2022ء میں ہوا تھا، اس کی افادیت نظر نہیں آتی۔
اس پروگرام کے تحت کتوں کو مارنے کے بجائے ان کی افزائش نسل کو روکنا تھا، لیکن 4 سال گزر گئے اور مطلوبہ اہداف حاصل نہ ہوسکے، کتوں کو جب بھی اور جہاں بھی موقع ملتا ہے، وہ شہریوں کو بھنبھوڑ ڈالتے ہیں۔
ضلع غربی، کورنگی، کیماڑی اور ملیر میں کتوں کے کاٹنے کے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے۔
کراچی میں ریبیز کنٹرول پروگرام کے تحت ٹارگٹ رکھا گیا تھا، 1 لاکھ 25 ہزار کتوں کو کور کرنا تھا، لیکن پروگرام کے لیے کے ایم سی کی صرف 4 گاڑیاں اور 2 کرائے کی گاڑیاں دستیاب ہیں۔
6 سے 7 سینٹرز کا مستقل عملہ بھی اتنا ہی ہے جبکہ پروگرام کے 96 کروڑ 30 لاکھ روپے کے بجٹ میں سے صرف 30 فیصد فنڈ استعمال ہوسکا ہے۔
ماہرین کے مطابق نیوٹرنگ ہی طویل المدتی حل ہے، لیکن پروگرام کی سست رفتاری، محدود بجٹ اور انتظامی رکاوٹوں کی وجہ سے شہری اب بھی خطرے میں ہیں۔
حکام کے مطابق کراچی میں 6 سینٹر فعال ہیں اور ملیر میں سینٹر تعمیر کے آخری مراحل میں ہے، کتوں کو پکڑ کر متعلقہ سینٹر میں لایا جاتا ہے، جہاں انہیں افزائش نسل سے روکنے کے لئے نیوٹر کیا جاتا ہے۔
کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں اضافہ تشویشناک ہے، شہریوں کو خوف سے نکالنے اور محفوظ رکھنے کے لئے آوارہ اور خطرناک کتوں کا خاتمہ ضروری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پروگرام کے کراچی میں کتوں کو
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔