Jasarat News:
2026-06-03@03:32:34 GMT

جوانوں کو پیروں کا استاد کر

اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260111-03-3

 

روزینہ خورشید

آج کل ہر طرف جین زی کا چرچا ہے۔ آخر یہ کیا بلا ہے جس کا ذکر آج سے چند سال پہلے تک عنقا تھا مگر اب ہر گزرتا دن اس کی شدت میں اضافہ ہی کرتا جا رہا ہے۔ درحقیقت ’’جین‘‘ جنریشن کا مخفف ہے جس کی معنی ہیں ’’نسل‘‘ جین زی دراصل وہ لوگ ہیں جو 1997 سے 2012 تک کے عرصے میں پیدا ہوئے جن کی عمریں ابھی تقریباً 13 سے 28 سال کے درمیان ہوں گی جبکہ جین ایکس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو 1965 سے 1980 کے درمیان پیدا ہوئے جن کی عمریں ابھی 45 سے 60 سال کے درمیان ہوں گی۔ ہم نے اکثر لوگوں کو جنریشن گیپ کا کہتے سنا ہے یہ جنریشن گیپ دراصل ان دونوں نسلوں کے درمیان کا خلا ہے جین زی یعنی ہماری نوجوان نسل جو کہ کل آبادی کا 62 فی صد ہے یہ نسل ڈیجیٹل دور میں پیدا ہوئی اور مختلف گیجٹ کے سائے تلے پروان چڑھ رہی ہے ان کے لیے ٹک ٹاک ،انسٹاگرام، یوٹیوب، اسنیپ چیٹ، اے آئی اور واٹس ایپ کو استعمال کرنا اتنا ہی آسان ہے جتنا کہ کھانا،پینا، سونا، جاگنا حتیٰ کہ اس کے لیے تعلیم یافتہ ہونے کی بھی شرط نہیں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جین ایکس کے تعلیم یافتہ لوگ جب جین زی کے غیر تعلیم یافتہ افراد کو بہترین طریقے سے ان تمام ایپس کو استعمال کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو بے اختیار یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

زمانے کے انداز بدلے گئے

نیا راگ ہے ساز بدلے گئے

جنریشن زی بلاشبہ انتہائی متحرک، ذہین اور محنتی ہیں مگر ان کی چند خصوصیات ایسی ہیں جو ان کو جنریشن ایکس سے دور کرنے کا سبب بن رہی ہیں مثلاً بہت زیادہ سوالات کرنا خواہ وہ مذہب کے بارے میں ہی کیوں نہ ہو، ہر چیز کا جواب ’’نہ‘‘ سے شروع کرنا، پرانی روایات اور اقدار کو من و عن قبول نہ کرنا بلکہ خود تحقیق کرنا پرانے نظام خواہ وہ تعلیمی، معاشی، سیاسی یا معاشرتی ہوں نہ ماننا بلکہ ان کو بدلنے کی جدوجہد کرنا، روزگار کے حصول کے لیے شارٹ کٹ تلاش کرنا، تفریح کے ساتھ ساتھ آمدنی کے لیے بھی سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال کرنا غرض کہ ان کی مثال ایک ایسی سیل رواں کی سی ہے جو اپنے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو عبور کرتے ہوئے منزل پر پہنچتی ہے جس کے آگے کسی بھی طرح کا بند نہیں باندھا جا سکتا۔

دوسری طرف جین ایکس یعنی 45 سے 60 سال کی عمر کے وہ لوگ ہیں جو اینالاگ سے ڈیجیٹل دور میں داخل ہوئے ہیں انہوں نے ریڈیو، ٹی وی، واکی۔ ٹاکی، وی سی آر، ٹیپ ریکارڈر اور بڑے بڑے سی پی یو والے مونیٹر سے سفر شروع کیا اور آج ان کے ہاتھوں میں بھی اسمارٹ فون موجود ہیں۔ وہ بھی لیپ ٹاپ اور ہینڈز فری استعمال کرتے ہیں لیکن اس ڈیجیٹل ورلڈ کو انہوں نے اپنا اوڑھنا بچھونا نہیں بنایا ہے بلکہ وہ ٹیکنالوجی کا استعمال ضرورت یا مقصد کی خاطر کرتے ہیں۔ یہ وہ جنریشن ہے جس نے ٹھیلوں سے اخبار اور رسائل خرید کر پڑھے ہیں، جنہوں نے دھوپ میں فٹبال ہاکی اور کرکٹ میچ کھیلے ہیں دوستوں کے ساتھ لوڈو اور کیرم کی محفل جمائی ہے۔ چونکہ وہ محنت و مشقت کے عادی بھی رہے ہیں لہٰذا عموماً نوکری اور خاندانی ذمے داری کو وفاداری اور مستقل مزاجی سے نبھاتے ہیں۔ ایسا بھی مشاہدے میں آیا ہے کہ جین ایکس سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی پوری زندگی ایک ہی ادارے میں ملازمت کرتے ہوئے گزار دیتے ہیں اور آخر کار وہاں سے ریٹائر ہو کر ہی نکلتے ہیں۔ جبکہ جین زی ان کے برعکس ہے وہ ہر دم کچھ نیا کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ جنریشن گیپ اس وقت آتا ہے جب دونوں گروہوں سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوں مثلاً 50 سالہ والد اگر اپنے تجربے کی بنیاد پر اپنے 20 سالہ بیٹے کو کسی بات سے منع کرے اور کہے ’’میں نے جو کہہ دیا بس یہی حرف آخر ہے کیونکہ میں نے تم سے زیادہ دنیا دیکھ رکھی ہے اور بیٹا میں نہ مانوں کی رٹ لگائے رکھے یا پھر 20 سالہ بیٹا اپنی کسی بات کو منوانے کے لیے باپ سے بدتمیزی کر بیٹھے اور کہے ’’آپ پرانے دور کے ہیں آپ کو کیا پتا اب زمانہ کتنا بدل گیا ہے‘‘۔ تب اس سچویشن کو جنریشن گیپ کا نام دیا جاتا ہے۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ جین زی سے تعلق رکھنے والے بیٹے باپ سے بدتمیزی نہ کریں بلکہ اپنے مؤقف کو درست ثابت کرنے کے لیے ان سے نرمی سے بات کریں، انہیں مثالوں اور دلائل سے سمجھائیں، الفاظ کا چناؤ سوچ سمجھ کے کریں مثلاً ’’شاید میں اپنی بات آپ کو ٹھیک سے سمجھا نہیں پا رہا ہوں‘‘۔ اسی طرح جنریشن ایکس سے تعلق رکھنے والے والدین کو بھی اپنے رویے میں لچک پیدا کرنا چاہیے۔

ہر چیز کے لیے ان کا موازنہ اپنے آپ سے نہ کریں کہ ’’ہم تو ایسے نہ تھے جیسے تم ہو یا ہمارے زمانے میں تو ایسا نہیں ہوتا تھا جیسا اب ہے‘‘ کیونکہ دونوں ادوار کے تقاضوں میں بڑا فرق ہے لہٰذا اگر جین ایکس کی طرف سے لچک دکھائی جائے اور جین زی کی صحیح سمت میں رہنمائی کی جائے تو یقینا ان کے باغیانہ رویے کا رخ موڑا جا سکتا ہے۔ اگر ان پر صرف تنقید کرنے کے بجائے ان کی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی کوشش کی جائے تو یقینا وہ ملک وملت کی ترقی و خوشحالی میں اپنا کردار احسن طریقے سے ادا کر سکیں گے۔

یاد رہے کے منہ زور دریاؤں کا رخ بنجر زمینوں کی طرف کر دیا جائے تو ہی اس کے پانی سے فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے وگرنہ یہ پانی اگر کھیتوں کی طرف چلا جائے توکھڑی فصلوں کو تباہ و برباد کر دیتا ہے۔ شاید اسی لیے شاعر مشرق علامہ اقبال نے کہا تھا

خرد کو غلامی سے آزاد کر

جوانوں کو پیروں کا استاد کر

روزینہ خورشید.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سے تعلق رکھنے والے جنریشن گیپ کے درمیان جین ایکس جائے تو کے لیے کہ جین ہیں جو

پڑھیں:

لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔

(جاری ہے)

پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق