اسرائیل نے صومالیہ کی بین الاقوامی تسلیم شدہ سرحدوں پر براہ راست حملہ کیا: اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
اسرائیل نے صومالیہ کی بین الاقوامی تسلیم شدہ سرحدوں پر براہ راست حملہ کیا: اسحاق ڈار WhatsAppFacebookTwitter 0 11 January, 2026 سب نیوز
جدہ: (آئی پی ایس) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اسرائیل نے صومالی لینڈ کو تسلیم اور وزیر خارجہ بھیج کر صومالیہ کی بین الاقوامی تسلیم شدہ سرحدوں پر براہ راست حملہ کیا ہے، پاکستان صومالیہ کی خودمختاری کا احترام اور حمایت کرتا ہے۔
اسلامی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا اور اسرائیلی وزیرخارجہ کے صومالی لینڈ جانے کی غیرقانونی اورغیرحقیقی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ اسرائیل کے وزیر خارجہ کے صومالی لینڈ کےدورے کی مذمت کرتے ہیں، پاکستان صومالیہ کی خودمختاری ،وحدت اورعلاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے، اسرائیلی وزیر خارجہ کا صومالی لینڈ کا دورہ انتہائی تشویشناک ہے، یہ سرحدوں پر براہ راست حملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت ریاست کی خودمختاری اورعلاقائی سالمیت لازمی ہیں، کوئی بیرونی ادارہ یا ریاست اس حقیقت کو بدلنے کا قانونی یااخلاقی حق نہیں رکھتی، ایسے کسی بھی بیان یا عمل کو قانونی یاسیاسی اثر حاصل نہیں ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی اقدام ہارن آف افریقا اوربحیرہ احمر میں امن وسلامتی کے لیے خطرہ ہے، پاکستان نے اوآئی سی ممالک کے ساتھ اسرائیل کے اقدام کو مشترکہ بیان میں مسترد کیا، پاکستان صومالی عوامی اورسکیورٹی فورسز کی قربانیوں کوسراہتا ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل کا اقدام دہشتگردی کے خلاف عالمی اورعلاقائی کوششوں کو نقصان پہنچاسکتا ہے، پاکستان نےاقوام متحدہ میں بھی اسرائیل کی کارروائی کی مذمت کی، اسرائیل کی کارروائی بین الاقوامی قانون اوراقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی ہے۔
نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیلی اقدام خطے میں سنگین اثرات پیدا کرسکتا ہے، صومالیہ کی ترقی اوراستحکام کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، صومالیہ نے قومی مفاہمت اورآئینی اصلاحات میں نمایاں پیش رفت کی ہے، ریاستی اداروں کی مضبوطی اوراقتصادی شعبے میں شفاف اصلاحات اہم ہیں۔
اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ عوامی ووٹ کی بنیاد پرانتخابات ہی صومالیہ کی ترقی کی علامت ہیں، کسی بھی قسم کی جبری بے دخلی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔
نائب وزیراعظم نے زور دیا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے ساتھ کھڑا ہے، غزہ میں جنگ کے خاتمے اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے کوششیں ضروری ہیں، پاکستان او آئی سی اورعرب ممالک کے ساتھ فلسطینی حق خود ارادیت کیلئے تعاون کرے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایس ای سی پی کی اصلاحات سے کمپنی رجسٹریشن میں ریکارڈ اضافہ، شفافیت اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ایس ای سی پی کی اصلاحات سے کمپنی رجسٹریشن میں ریکارڈ اضافہ، شفافیت اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال مجاہد گروپ آف انڈسٹریز نے ملک میں خوردنی تیل کے سب سے بڑے امپورٹر کا ایوارڈ اپنے نام کر لیا ایران پر حملہ؟ ٹرمپ انتظامیہ فوجی کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، امریکی اخبار کا دعویٰ اسلام آباد: جی سیون ٹو میں شادی کی تقریب کے دوران سلنڈر دھماکہ، دلہا دلہن سمیت 6 افراد جاں بحق آئی سی سی انڈر 19 ورلڈ کپ 2026 کیلیے تمام 16 ٹیموں نے حتمی اسکواڈز کا اعلان کر دیا عوام سے غیرفعال 14 ہزار میگاواٹ بجلی کے 2.2 کھرب روپے وصول کیے جانے کا انکشاف
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سرحدوں پر براہ راست حملہ نے کہا کہ اسرائیل بین الاقوامی اسحاق ڈار نے صومالی لینڈ صومالیہ کی
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔