ایرانی عوام نے دہشت گردوں اور فسادیوں سے واضح طور پر لاتعلقی کا اعلان کیا ہے، ایرانی سفیر
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی سروسز کو عارضی طور پر معطل کیا گیا تھا، جو سکیورٹی کے خدشات، دہشت گردوں کی طرف سے لاحق خطرات اور دستاویزی طور پر ثابت شدہ بیرونی مداخلت کی وجہ سے کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے باصلاحیت اور بصیرت رکھنے والے عوام، جو دشمنوں کی سازشوں اور ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں سے مکمل طور پر آگاہ ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں ایران کے سفیر محمد رضا امیر مقدم نے کہا ہے کہ گزشتہ رات سے اتوار دوپہر تک ملک میں سکون اور امن کی صورتحال رہی۔ خاص طور پر تہران اور دیگر بڑے شہروں میں کوئی قابلِ ذکر ہنگامہ یا انتشار نہیں دیکھا گیا۔ ایرانی سفیر نے کہا کہ انٹرنیٹ کی سروسز کو عارضی طور پر معطل کیا گیا تھا، جو سکیورٹی کے خدشات، دہشت گردوں کی طرف سے لاحق خطرات اور دستاویزی طور پر ثابت شدہ بیرونی مداخلت کی وجہ سے کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے باصلاحیت اور بصیرت رکھنے والے عوام، جو دشمنوں کی سازشوں اور ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں سے مکمل طور پر آگاہ ہیں، نے دہشت گردوں اور فسادیوں سے واضح طور پر لاتعلقی کا اعلان کیا ہے، جیسا کہ ماضی میں ہوتا آیا ہے، ایرانی قوم اس مشکل مرحلے کو بھی عزیمت، استقامت اور سلامتی کے ساتھ کامیابی سے عبور کر لے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔