وزیراعظم محمد شہباز شریف کا اسلام آباد میں سلنڈر حادثے میں قیمتی جانوں کے نقصان پر اظہار افسوس
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
اسلام آباد گیس سلنڈر کے المناک واقعے پر وزیراعظم شہباز شریف،چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی اور وزیر داخلہ محسن نقوی اظہار افسوس کیا ۔وزیراعظم کا جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم نے متاثرہ خاندان کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا ۔زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ۔شہباز شریف نے سیکریٹری داخلہ کو واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کرنے کی ہدایت کردی۔کہا حادثے کی وجوہات کا تعین کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کا بھی حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کیا ۔انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کی ،انکا کہنا تھا کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
بالی وڈ اداکارہ روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر ممبئی میں چوری کی بڑی واردات سامنے آئی ہے جس میں تقریباً 25 لاکھ روپے مالیت کے زیورات اور قیمتی گھڑیاں چوری کرلی گئیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ ممبئی کے علاقے جوہو میں پیش آیا، جہاں روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر سے قیمتی سامان اس وقت غائب پایا گیا جب اہل خانہ نے لاکر چیک کیا۔ لاکر کھولنے پر زیورات اور گھڑیاں موجود نہ ہونے کا انکشاف ہوا، جس کے بعد فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی گئی۔
پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ تقریباً 25 لاکھ روپے مالیت کے زیورات اور گھڑیاں چوری ہوئی ہیں۔ معاملے کی سنگینی کے پیش نظر تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق اس کیس میں ایک خاتون کو گرفتار کیا گیا ہے جس کا تعلق روینہ ٹنڈن کے خاندان سے ہی بتایا جا رہا ہے۔ ملزمہ کی شناخت 47 سالہ راشی چھابریا کے نام سے ہوئی ہے۔
تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مذکورہ خاتون 2020 سے اداکارہ کے گھر آ جا رہی تھی اور اس دوران اس نے گھر والوں کا اعتماد حاصل کر لیا تھا۔ وہ روینہ ٹنڈن کی والدہ کی مدد اور دیکھ بھال بھی کرتی رہی۔
پولیس نے مزید بتایا کہ گرفتار ملزمہ کے قبضے سے کچھ قیمتی گھڑیاں برآمد کر لی گئی ہیں، تاہم باقی زیورات کی بازیابی کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ مکمل ریکوری ممکن بنائی جا سکے۔