سال 2025میں ساڑھے 7 لاکھ سے زائد پاکستانی بیرون ملک ملازمت کیلئے گئے، رپورٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
سال 2025میں ساڑھے 7 لاکھ سے زائد پاکستانی بیرون ملک ملازمت کیلئے گئے، رپورٹ جاری WhatsAppFacebookTwitter 0 11 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )بیورو آف امیگریشن کے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق گزشتہ سال ملک سے ساڑھے 7 لاکھ سے زائد پاکستانی بیرون ملک ملازمت کے لئے گئے۔ جبکہ 2024 میں بھی تعداد 7 لاکھ 27 ہزار381تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 میں 4 لاکھ سے زائد غیر ہنرمند اور دو لاکھ سے زائد ہنرمندوں کو بیرون ملک نوکری ملی۔پا کستانیوں کی سب سے زیادہ تعداد سعودی عرب گئی۔
گزشتہ سال 5 ہزار 659 اکانٹنٹ، 10 ہزار 503 باورچی بیرون ملک گئے، 3 ہزار 795 ڈاکٹروں اور5ہزار 946 انجینیئروں کو بھی بیرون ملک نوکری ملی، 1640 نرسز بھی گزشتہ برس ملازمت کے لیے بیرون ملک گئیں۔1725 اساتذہ ایک لاکھ 63 ہزار 718 ڈرائیورز بھی بیرون ملک گئے، 6475 الیکٹریشنز،4 لاکھ 65 ہزار 138 مزدور روزی روٹی کمانے بیرون ملک گئے۔ 5700 مستری،12703ٹیکنیشنز،11ہزار 777 مینجرزاور 2306 پلمبر بھی شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق 2027ویٹر،18 ہزار 352 اعلی تعلیم یافتہ،13 ہزار 657انتہائی ہنر مندافراد باہر گئے، گزشتہ سال کے دوران 2 لاکھ 22 ہزار 171 ہنرمند افراد بیرون ملک گئے، 42 ہزار 257 نیم ہنرمند،4 لاکھ 66 ہزار 62 غیر ہنرمند پاکستانی بیرون ملک گئے۔
دستاویز کے مطابق بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں میں 5 لاکھ 30 ہزار 256 افراد سعودی عرب گئے، 52 ہزار 664 افراد متحدہ عرب امارات اور 68 ہزار 376 پاکستانی قطر گئے، 37726 کو بحرین،6590 کویت اور 1005 پاکستانیوں کو امریکا میں نوکری ملی۔رپورٹ کے مطابق 39 پاکستانی جنوبی کوریا،4355 برطانیہ،984 جرمنی اور 813 پاکستانی اٹلی گئے، 2230 پاکستانیوں کو چین،2210 کو جاپان اور1109 پاکستانیوں کو رومانیا میں نوکری ملی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکسی بھی خارجی قوت کو ملک میں انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دینگے، ایرانی صدر کسی بھی خارجی قوت کو ملک میں انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دینگے، ایرانی صدر وزیراعظم کا دسمبر 2025میں ریکارڈ ترسیلات زر بھیجنے پر سمندر پار پاکستانیوں سے اظہار تشکر اسلام کی بقا آسائشوں میں نہیں، آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے، مولانا فضل الرحمان پاک نیوی کے بیڑے کا سلطان قابوس بندرگاہ کا دورہ، مشترکہ مشق میں حصہ لیا نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی آذربائیجان کے نائب وزیر خارجہ سے ملاقات ، دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کا اعادہ بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان کاسافٹ فیس، پراکسی کا منظم نیٹ ورک بے نقابCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستانی بیرون ملک لاکھ سے زائد
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔