جس دن قوم نے محکومیت قبول نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا، اس دن یہ جبر ختم ہوجائیگا،رہنما پی ٹی آئی سلمان اکرم راجا WhatsAppFacebookTwitter 0 11 January, 2026 سب نیوز

کراچی (سب نیوز)پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ جس دن قوم نے محکومیت کی زندگی قبول نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا، یہ جبر خود بخود ختم ہو جائے گا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے معاشی ترجمان اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر اور دیگر رہنماوں نے معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک جانب حکومت معاشی استحکام کے دعوے کررہی ہے وہیں خود حکومتی رپورٹس میں عوام کا معیار زندگی تیزی سے گرنے اور غربت میں اضافے کے اعدادوشمار حکومتی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں ایس آئی ایف سی نمایاں سرمایہ کاری لانے میں ناکام رہا، پی آئی اے کی نجکاری کی حمایت کرتے ہیں تاہم ورکرز کے استحصال کے خلاف ہیں۔

کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب میں محمد زبیر نے کہا کہ سرکاری سروے کے مطابق 80 فیصد عوام کا طرزِ زندگی خراب ہوا ہے جبکہ اتنے ہی فیصد لوگوں نے مہنگائی کے باعث کھانے پینے کی اشیا کی خریداری میں کمی کی ہے۔ ان کے مطابق سب سے زیادہ متاثر شہری مڈل کلاس ہوئی ہے اور 23 فیصد شہری آبادی کی آمدن اور معیارِ زندگی نیچے چلا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جہاں چار سال میں عوام کی زندگی نیچے چلی گئی ہو وہاں یہ پوچھنا لازم ہے کہ حکومت نے آخر حاصل کیا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمان، الیکشن کمیشن اور عدلیہ کو کنٹرول میں لے کر بھی معیشت بہتر نہیں کی جا سکی۔ ایس آئی ایف سی سرمایہ کاری لانے کے لیے بنایا گیا تھا مگر سرمایہ کاری 50 فیصد کم ہو گئی، جو اس ادارے کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تین سال میں تین کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے۔محمد زبیر نے کہا کہ امریکا اور مڈل ایسٹ سے سرمایہ کاری اس لیے نہیں آ رہی کیونکہ ملک میں قانون کی بالادستی موجود نہیں۔ اب پاکستانی سرمایہ کار بھی سرمایہ کاری سے قبل بین الاقوامی عدالتوں میں مصالحت کا حق مانگ رہے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو معاشی بدحالی کا سب سے زیادہ ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے چھ ماہ میں معیشت بہتر کرنے کا وعدہ کیا تھا، جو پورا نہ ہو سکا۔انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک کے وقت زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر 17 ارب ڈالر سے زائد تھے، جبکہ جنوری 2022 میں یہی ذخائر 2023 میں کم ہو کر 2.

9 ارب ڈالر رہ گئے۔ ان کے مطابق جون 2023 میں ملک کو ڈیفالٹ کا خطرہ اس وقت پیدا ہوا جب آئی ایم ایف پروگرام کو نقصان پہنچایا گیا۔

محمد زبیر نے کہا کہ نیب کی جانب سے 5300 ارب روپے کی ریکوری کے دعوں کی وضاحت کی جائے کہ یہ رقم کس سے وصول کی گئی اور کن افراد کو سزا دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ گندم اسکینڈل 300 ارب روپے کا تھا جس پر آڈیٹر جنرل نے رپورٹ دی، چینی اسکینڈل میں بھی 300 ارب روپے کا نقصان ہوا جبکہ وزیر پیٹرولیم خود اعتراف کر چکے ہیں کہ 300 ارب روپے کی پیٹرولیم مصنوعات اسمگل ہو رہی ہیں۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جلسے کے لیے این او سی جاری ہونے کے باوجود پولیس نے گھیرا کیا، گرفتاریاں کی گئیں اور اسٹیج و سانڈ سسٹم فراہم کرنے والوں کو ہراساں کیا گیا، تاہم اس کے باوجود جلسہ ضرور ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کو اصولی طور پر سپورٹ کرتے ہیں لیکن اس عمل میں شفافیت اور ورکرز کے حقوق پر سنگین سوالات موجود ہیں اور نجکاری کے نام پر کسی بھی قسم کے استحصال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں کو تباہ کرنے والوں اور کرپشن میں ملوث عناصر کا احتساب ہونا چاہیے۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت اور پارلیمان محض ڈھکوسلہ بن چکے ہیں اور ملک عملی طور پر ایک جیل کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 15 ہر شہری کو آمدورفت کی آزادی دیتا ہے مگر آج یہ حق سلب کیا جا رہا ہے۔ عوام کے حقوق اور آزادی کے لیے جدوجہد ناگزیر ہے اور جس دن قوم نے محکومیت کی زندگی قبول نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا، یہ جبر خود بخود ختم ہو جائے گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایران میں دو ہفتے سے جاری مظاہروں میں ہلاک افرادکی تعداد 192ہوگئی، انسانی حقوق کی تنظیم کا دعوی ایران میں دو ہفتے سے جاری مظاہروں میں ہلاک افرادکی تعداد 192ہوگئی، انسانی حقوق کی تنظیم کا دعوی اسلام آباد کی تمام پراپرٹیز میں آگ بجھانے ،ایمر جنسی اقدامات کا سروے کرنے کی ہدایت نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سعودی نائب وزیر خارجہ سے ملاقات دشمن کی حرکات پر نظر ہے ، قومی مفادات کا دفاع کریں گے ، ایرانی فوج نوجوانوں کو آئی ٹی کی تعلیم فراہم کرنا اولین ترجیحات میں شامل ہے، وزیر اعظم وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کا نئے صوبوں کیلئے تحریک شروع کرنے کا عندیہ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: قبول نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا جس دن قوم نے محکومیت سلمان اکرم راجا انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری ارب روپے یہ جبر ختم ہو کے لیے

پڑھیں:

پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی

پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔

ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلت

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔

عالمی جنگ کے امکانات نہیں

عالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرے

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ