پاک بحریہ کے بحری جہازوں پر مشتمل فلوٹیلا کا بیرون ملک تعیناتی کے دوران عمان کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)پاک بحریہ کے جہازوں راہ ناورد(سیل شپ) مددگار اور پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی (پی ایم ایس اے)کے جہاز پی ایم ایس ایس کشمیر پر مشتمل فلوٹیلا نے مسقط، عمان کی بندرگاہ سلطان قابوس کا دورہ کیا۔ بندرگاہ پہنچنے پر عمانی حکام کی جانب سے جہازوں کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک ریلیشنزنیوی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دورے کے دوران مشن کمانڈر کموڈور عامر اقبال نے کمانڈنگ آفیسرز کے ہمراہ عمان کی بحری قیادت سے ملاقاتیں کیں۔
مشن کمانڈر نے رائل نیوی آف عمان کے قائم مقام کمانڈر، ڈی جی آپریشنز اینڈ پلانز، کمانڈر میری ٹائم سیکیورٹی سینٹر، کمانڈر سید بن سلطان نیول بیس اور کمانڈنٹ سلطان قابوس نیول اکیڈمی سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، بحری افواج کے مابین روابط اور میری ٹائم سیکیورٹی میں تعاون پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ رائل نیوی آف عمان کے آفیسرز اور مڈ شپ مین نے جہازوں کا دورہ بھی کیا اور پاک بحریہ کے افسران کے ساتھ باہمی دلچسپی کے موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا۔
اسلام آباد میں سلنڈر حادثہ ، وزیرِ اعظم کا اظہار افسوس ، مکمل تحقیقات کا حکم دیدیا
بندرگاہ پر قیام کے دوران عمان کے عسکری حکام اور عام شہریوں نے پاک بحریہ کے جہازوں کا دورہ کیا جس میں بڑی تعداد پاکستانی کمیونٹی اور پاکستان سکول مسقط کے طلباء کی تھی۔بندرگاہ کے دورے کے بعد پاک بحریہ اور پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کے جہازوں نے رائل نیوی آف عمان کے جہاز خصب (KHASAB ) کے ساتھ بحری مشق کی۔ اس مشق کا مقصد دونوں بحری افواج کے درمیان باہمی تعاون کو بڑھانا اور بحری مشقوں کے دو طرفہ انعقاد کے ذریعے سیکھنے کے مشترکہ مواقع کو فروغ دینا تھا۔
پاکستان اور عمان سمندری ہمسائے ہیں اور دونوں ممالک کے مابین اعلیٰ حکام کے ساتھ ساتھ بحری جہازوں کی پورٹ کالز اور مشترکہ مشقیں باقاعدگی سے منعقد کی جاتی ہیں ۔ پاک بحریہ اور پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کے جہازوں کے اس دورے سے دونوں بحری افواج کے درمیان دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
صدر مملکت کا گیس سلنڈر دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار ، اہم ہدایات جاری
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: میری ٹائم سیکیورٹی پاک بحریہ کے اور پاکستان کے جہازوں کے دوران اور پاک کا دورہ عمان کے
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔