جلد معاہدہ نہ کیا تو سنگین نتائج ہوں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کا کیوبا کو انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیوبا کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وینزویلا سے جانے والی تیل اور مالی امداد اب کیوبا کو نہیں دی جائے گی، اور اگر کیوبا نے جلد ہی امریکا کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کیا تو نتائج سنگین ہوسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: روس، چین، ایران اور کیوبا کے ساتھ اقتصادی تعلقات ختم کرو، امریکا کا وینزویلا سے سخت مطالبہ
ترتھ سوشل میں اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ کئی سالوں میں کیوبا نے وینزویلا سے بڑی مقدار میں تیل اور مالی امداد حاصل کی، اور اس کے بدلے کیوبا نے وینزویلا کے 2 سابق حکمرانوں کے لیے ’سیکیورٹی سروسز‘ فراہم کیں۔ تاہم گزشتہ ہفتے امریکی کارروائی کے دوران ان کیوبائی سیکیورٹی اہلکاروں میں سے زیادہ تر ہلاک ہو گئے اور اب وینزویلا کو مزید تحفظ کی ضرورت نہیں رہی۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ وینزویلا اب دنیا کی سب سے طاقتور فوج، یعنی امریکا کے تحفظ میں ہے، اور امریکا اسے ہر ممکنہ خطرے سے بچائے گا۔ انہوں نے کیوبا کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ کوئی تیل یا مالی امداد اب کیوبا نہیں جائے گی اور فوری معاہدہ کرنے کی ہدایت کی۔
یہ بھی پڑھیں: وینزویلا پر دوسرا حملہ منسوخ کردیا، تیل میں 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے، ڈونلڈ ٹرمپ
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکا نے وینزویلا میں کارروائی کرتے ہوئے صدر نیکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کیا اور کئی کیوبائی اہلکار ہلاک ہوئے، امریکی اقدامات کی وجہ سے خطے میں جیوپولیٹیکل کشیدگی بڑھ گئی ہے اور عالمی مبصرین اس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے زور دیا کہ کیوبا کے لیے وقت تیزی سے کم ہو رہا ہے اور انہیں امریکہ کے ساتھ سمجھوتہ کرنا چاہیے تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news امریکا تیل ڈونلڈ ٹرمپ کیوبا وینزویلا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا تیل ڈونلڈ ٹرمپ کیوبا وینزویلا ڈونلڈ ٹرمپ کیوبا کو
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔