ٹرمپ انتظامیہ کا ایران میں غیر فوجی اہداف پر حملوں پر غور، اسرائیل ہائی الرٹ پر
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
ایران میں جاری شدید حکومت مخالف مظاہروں کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران میں غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے امکان پر سنجیدہ غور شروع کر دیا گیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ کو فوجی آپشنز پر بریفنگ دی جا چکی ہے، تاہم حتمی فیصلہ تاحال نہیں کیا گیا، جبکہ خطے میں کشیدگی کے پیشِ نظر اسرائیل نے بھی اپنی سیکیورٹی الرٹ بڑھا دی ہے۔
Israel has gone on high alert over the possibility the United States could intervene in Iran as authorities confront the biggest anti-government protests in years, Reuters cited three Israeli sources with knowledge of the matter as saying on Sunday.
US President Donald Trump has… pic.twitter.com/ClPj303CfY
— Iran International English (@IranIntl_En) January 11, 2026
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کو ایران پر فوجی حملوں سے متعلق بریفنگ دی گئی، جس کے بعد تہران میں غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے امکان پر سنجیدگی سے سوچا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ابھی ایران پر حملوں کا حتمی فیصلہ نہیں کیا، تاہم وہ ایرانی حکومت کی جانب سے مظاہروں کو دبانے کی کوششوں کے ردعمل میں فوجی کارروائی کی اجازت دینے پر غور کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا سے معاہدہ کرنے کے لیے ’بے تاب‘ ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
یاد رہے کہ ایران میں پرتشدد مظاہرے مسلسل تیرہویں روز بھی جاری ہیں۔ مختلف رپورٹس کے مطابق اب تک جھڑپوں میں 15 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت کم از کم 65 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ایک امریکی جریدے نے اموات کی تعداد 200 سے زائد بتائی ہے۔ صدر ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایرانی قیادت کو خبردار کیا تھا کہ اگر مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکا سخت ردعمل دے گا، اور یہ بھی کہا تھا کہ امریکا ایرانی عوام کی مدد کے لیے تیار ہے۔
اسرائیل ہائی الرٹ پر
ایران میں جاری بڑے پیمانے پر حکومت مخالف مظاہروں اور امریکا کی ممکنہ مداخلت کے خدشے کے باعث اسرائیل نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی سیکیورٹی اداروں نے احتیاطی اقدامات سخت کر دیے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس ہائی الرٹ کی عملی شکل کیا ہے۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی مشاورت کے دوران خطے کی صورتِ حال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، خاص طور پر اس تناظر میں کہ اسرائیل اور ایران ماضی قریب میں 12 روزہ جنگ کا سامنا کر چکے ہیں۔
مزید برآں ایک اسرائیلی ذریعے نے بتایا کہ ہفتے کے روز اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے درمیان فون پر گفتگو ہوئی، جس میں ایران میں امریکا کی ممکنہ مداخلت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ امریکی حکام نے کال کی تصدیق تو کی، تاہم بات چیت کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں:لندن میں ایرانی سفارتخانے پر احتجاج، مظاہرین نے اسلامی جمہوریہ کا پرچم اتار دیا، ویڈیو وائرل
خطے میں تیزی سے بدلتی صورتحال کے باعث عالمی سطح پر تشویش بڑھتی جا رہی ہے، جبکہ ایران، امریکا اور اسرائیل سے جڑے ممکنہ فیصلوں کو مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔