امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ اقدامات پر غور کے دوران غیر فوجی اہداف کو سنجیدگی سے نشانہ بنانے کے آپشن پر بھی بات کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران میں جاری کشیدگی: ترکیہ نے اسرائیل کو کسی بھی جارحانہ اقدام سے خبردار کردیا

نیویارک ٹائمز کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی مشیروں کے ساتھ ہونے والی حالیہ مشاورت میں ایران پر دباؤ بڑھانے کے مختلف راستوں پر غور کیا گیا، جن میں غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کی حکمتِ عملی بھی زیر بحث آئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس آپشن کا مقصد ایران پر سیاسی اور نفسیاتی دباؤ میں اضافہ کرنا ہو سکتا ہے، تاہم کسی حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں کی گئی۔

اخبار کے مطابق یہ غور و فکر ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور ایران و امریکا کے تعلقات ایک بار پھر تناؤ کا شکار ہیں۔ رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کی ٹیم روایتی فوجی کارروائی کے بجائے ایسے اقدامات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے جو براہِ راست جنگ کے بغیر اثرانداز ہو سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:ایران بحران: مظاہرین کے قتل پر امریکا مداخلت کرسکتا ہے، ٹرمپ کی وارننگ

دفاعی ماہرین کے مطابق اگر غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے جیسا کوئی قدم اٹھایا گیا تو اس کے سنگین سفارتی اور انسانی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب ایران کی جانب سے بھی ماضی میں ایسے بیانات سامنے آتے رہے ہیں کہ کسی بھی جارحانہ اقدام کا سخت جواب دیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران ایران امریکا ایران حملہ ایران مظاہرے.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا ایران ایران امریکا ایران حملہ ایران مظاہرے غیر فوجی اہداف کو

پڑھیں:

ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی

ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔

گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔

ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان