امریکا کا ایران پر نفسیاتی دباؤ بڑھانے کے لیے غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے پر غور
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ اقدامات پر غور کے دوران غیر فوجی اہداف کو سنجیدگی سے نشانہ بنانے کے آپشن پر بھی بات کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران میں جاری کشیدگی: ترکیہ نے اسرائیل کو کسی بھی جارحانہ اقدام سے خبردار کردیا
نیویارک ٹائمز کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی مشیروں کے ساتھ ہونے والی حالیہ مشاورت میں ایران پر دباؤ بڑھانے کے مختلف راستوں پر غور کیا گیا، جن میں غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کی حکمتِ عملی بھی زیر بحث آئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس آپشن کا مقصد ایران پر سیاسی اور نفسیاتی دباؤ میں اضافہ کرنا ہو سکتا ہے، تاہم کسی حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں کی گئی۔
اخبار کے مطابق یہ غور و فکر ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور ایران و امریکا کے تعلقات ایک بار پھر تناؤ کا شکار ہیں۔ رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کی ٹیم روایتی فوجی کارروائی کے بجائے ایسے اقدامات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے جو براہِ راست جنگ کے بغیر اثرانداز ہو سکیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایران بحران: مظاہرین کے قتل پر امریکا مداخلت کرسکتا ہے، ٹرمپ کی وارننگ
دفاعی ماہرین کے مطابق اگر غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے جیسا کوئی قدم اٹھایا گیا تو اس کے سنگین سفارتی اور انسانی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب ایران کی جانب سے بھی ماضی میں ایسے بیانات سامنے آتے رہے ہیں کہ کسی بھی جارحانہ اقدام کا سخت جواب دیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ایران ایران امریکا ایران حملہ ایران مظاہرے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ایران ایران امریکا ایران حملہ ایران مظاہرے غیر فوجی اہداف کو
پڑھیں:
علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔