Jasarat News:
2026-07-24@03:51:01 GMT

تیسری عالمی جنگ کے خطرات؟

اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260111-03-2

 

نیویارک ٹائمز کے حالیہ انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کھل کر اپنی مستقبل کی عالمی پالیسی کے بارے میں بات کی، جو نہ صرف امریکا بلکہ پوری دنیا کے سیاسی منظرنامے کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ صدر ٹرمپ کے بیانات سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ دنیا میں بین الاقوامی قوانین اور اصولوں پر مبنی عالمی نظام، اب اپنی شکل کھو چکا ہے اور امریکی حکمت عملی اب زیادہ تر طاقت اور مفاد پر مبنی ہو گئی ہے۔ ٹرمپ نے وینزویلا پر امریکی فوجی حملے، گرین لینڈ کے حصول کی خواہش، اور یورپ کو خبردار کرنے جیسے بیانات دیے، جو عالمی طاقتوں کے تعلقات پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔ ان کے مطابق امریکا کسی بین الاقوامی قانون، ضابطے یا نگرانی کا پابند نہیں، اور صرف ان کی اپنی اخلاقیات اور ذاتی فیصلے انہیں کسی حد تک روکتے ہیں۔ یہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ امریکا نے اپنے سفارتی اور عسکری رویوں میں روایتی حدود کو ترک کر دیا ہے، اور عالمی طاقت کا استعمال کھلے اور براہِ راست مفاد اور سیاسی بالادستی کے لیے کر رہا ہے۔ وینزویلا کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا وہاں برسوں تک اپنا کنٹرول قائم رکھے گا اور تیل کے ذخائر سے بھرپور فائدہ اٹھائے گا۔ وہ عبوری حکومت کی مدد سے تیل نکالنے اور ملک کو منافع بخش انداز میں دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ یہی رویہ گرین لینڈ کے معاملے میں بھی دہرایا گیا، جہاں وہ ملکیت پر زور دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ لیز یا عارضی معاہدے سے وہ مطلوبہ اثر اور طاقت حاصل نہیں کر سکتے۔ یورپ کو انہوں نے خبردار کیا کہ امریکا کے بغیر ناٹو بے کار ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ٹرمپ عالمی اتحادیوں کو امریکی حکمت عملی کے تابع دیکھنا چاہتے ہیں۔ یوکرین کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ روس کے دوبارہ حملے کی صورت میں امریکا کے کردار کو محدود رکھتے ہوئے مفاہمانہ حمایت فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم ان کا اعتماد صدر ولادیمیر پیوٹن کی امن کی خواہش پر ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ عالمی تنازعات میں براہِ راست مداخلت کے بجائے اپنے مفادات کے تحت مخصوص فیصلے کریں گے، اور عالمی طاقتوں کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ امریکا اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ کرے گا۔

ٹرمپ کے بیانات پر غور کریں تو ایک واضح تصویر اس طرح بنتی ہے کہ امریکا طاقت کے استعمال میں محتاط نہیں، اور عالمی قوانین کے بجائے اپنی مفاد پرستی اور اخلاقیات کو ترجیح دیتا ہے۔ یہی رویہ دنیا میں کشیدگی کے امکانات کو بڑھاتا ہے، اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم تیسری عالمی جنگ کی دہلیز پر کھڑے ہیں؟ روس، چین اور دیگر عالمی طاقتیں اس صورتحال کو گہری نظر سے دیکھ رہی ہیں۔ چین کے صدر شی جن پنگ کی قیادت میں امریکا کی غیر روایتی اور جارحانہ پالیسیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ ٹرمپ نے خود تسلیم کیا ہے کہ چین تائیوان پر حملہ کرنے کی جرأت نہیں کرے گا جب وہ صدر ہوں، لیکن یہ عالمی طاقتوں کے لیے ایک چیلنج بھی ہے کہ کسی بھی غیر متوقع امریکی اقدام سے عالمی توازن متاثر ہو سکتا ہے۔ روس بھی امریکا کی طاقت کے استعمال اور عالمی معاہدوں سے انکار پر محتاط ہے۔ پرنسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر اور گارڈین کے کالم نگار جان ورنر ملر کے مطابق، ٹرمپ کی یہ کارروائیاں امریکی خارجہ پالیسی کے ایک نئے ’’مافیا ریاست‘‘ کے رجحان کو واضح کرتی ہیں، جس میں طاقت، دولت اور سیاسی کنٹرول کو عالمی سطح پر ایک ساتھ استعمال کیا جاتا ہے، اور یہ دنیا بھر میں جمہوری اقدار اور بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک چیلنج کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ ٹرمپ کی عالمی تعمیراتی منصوبہ بندی، جیسے وائٹ ہاؤس کی تزئین و آرائش، گرینڈ بال روم، اور نیشنل گارڈن آف امریکن ہیروز، صرف داخلی اثر و رسوخ کے لیے نہیں بلکہ عالمی منظرنامے میں ایک طاقت کا مظاہرہ بھی ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ نہ صرف سیاسی بلکہ نفسیاتی سطح پر بھی دنیا کو اپنے مفادات کے مطابق ڈیزائن کرنا چاہتے ہیں۔ دنیا کی موجودہ صورتحال، ٹرمپ کے بیانات اور امریکی رویے کے تجزیے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ عالمی طاقتیں دوبارہ اپنے عسکری اور اقتصادی منصوبوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہیں۔ چین، روس اور یورپی ممالک اس صورتحال کو اپنے مفادات کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں، اور امریکا کے جارحانہ اقدامات کے ردِ عمل میں ممکنہ عسکری اور اقتصادی حکمت عملی تیار کر رہے ہیں۔ اگرچہ تیسری عالمی جنگ کا فوری خطرہ نظر نہیں آتا، لیکن موجودہ کشیدگی، طاقت کی غیر متوازن تقسیم اور عالمی اصولوں کی کمزوری سے یہ امکان موجود ہے کہ کسی بھی چھوٹی جنگ یا تنازع بڑے عالمی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

ٹرمپ کے انٹرویو سے یہ بھی واضح ہوا کہ عالمی سیاست اب صرف ڈپلومیسی اور مذاکرات تک محدود نہیں رہی، بلکہ طاقت اور مفاد پر مبنی رویے اس کی بنیاد بن چکے ہیں۔ بین الاقوامی قوانین کے خاتمے کے بعد عالمی سطح پر کوئی بھی ملک اپنے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے، اور یہ منظرنامہ مستقبل میں عالمی کشیدگی اور ممکنہ جنگوں کے امکانات کو بڑھاتا ہے۔ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکا کی جارحانہ پالیسیوں کے اثرات عالم ِ اسلام اور پاکستان پر بھی براہِ راست پڑ سکتے ہیں۔ ایران میں حالات کشیدہ ہیں، اگر عالمی طاقتیں اپنی غیر متوازن اور مفاد پرستانہ حکمت عملی جاری رکھیں، تو مسلم ممالک، خاص طور پر خطے کے سیاسی اور اقتصادی طور پر کمزور ممالک، مشکلات میں آ سکتے ہیں۔ کیونکہ جنوبی ایشیا میں فوجی اور اقتصادی توازن امریکی و بھارتی حکمت عملیوں سے متاثر ہوتا ہے۔ ٹرمپ کی پالیسیوں سے عالمی عدم استحکام بڑھنے کی صورت میں پاکستان کو اپنے دفاعی اور اقتصادی وسائل مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہوگی، اور اسے صرف اپنے ملک کے مفادات کے بجائے امت مسلمہ کی مشترکہ فلاح و تحفظ کے تناظر میں بھی سوچنا ہوگا۔ توانائی، تجارت، اور سیاسی تعلقات میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال پاکستان کی ترقیاتی منصوبوں اور داخلی استحکام پر اثر ڈال سکتی ہے، جبکہ عالمی طاقتوں کے اثر و رسوخ میں اضافہ مسلم دنیا میں تناؤ اور انتشار کو فروغ دے سکتا ہے۔ دنیا ایک نئے اور غیر یقینی عالمی دور میں داخل ہو رہی ہے، جہاں امریکا کی غیر روایتی پالیسی، ٹرمپ جیسے رہنماؤں کے فیصلے، اور عالمی طاقتوں کی ردعمل مستقبل کے امن اور جنگ کی سمت کا تعین کریں گے۔ روس، چین، پاکستان سمیت اور دیگر ممالک کو چاہیے کہ وہ اس نئی حقیقت کو سمجھیں اور اپنے دفاع اور عالمی توازن کے لیے حکمت عملی تیار کریں، ورنہ ممکن ہے کہ دنیا ایک ایسی راہ پر گامزن ہو جائے جہاں تیسری عالمی جنگ کے خطرات نظر انداز نہ کیے جا سکیں۔

اداریہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: تیسری عالمی جنگ بین الاقوامی عالمی طاقتوں اور اقتصادی اپنے مفادات عالمی طاقت حکمت عملی اور عالمی کہ امریکا امریکا کی مفادات کے کے مطابق کہ عالمی سکتا ہے مفاد پر ہوتا ہے ٹرمپ کے کے لیے

پڑھیں:

امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام

امریکہ نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں جبکہ ایرانی شہر اہواز میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ امریکی افواج نے جمعرات کی شب ایران کے فوجی اہداف پر ایک اور حملہ کیا۔ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں مسلسل 13 ویں رات جاری رہیں۔

U.S. forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET today. This is the 13th consecutive night of strikes aimed to hold Iran accountable and diminish threats from the Islamic Revolutionary Guard Corps to commercial shipping.

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 23, 2026

سینٹکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کو اس کے اقدامات پر جوابدہ بنانا اور پاسداران انقلاب کی جانب سے تجارتی بحری جہازوں کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔

دوسری جانب ایران کے صوبہ خوزستان کے دارالحکومت اہواز کے رہائشیوں نے جمعہ کی علی الصبح متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکوں کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار