Jasarat News:
2026-06-03@02:33:27 GMT

تیسری عالمی جنگ کے خطرات؟

اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260111-03-2

 

نیویارک ٹائمز کے حالیہ انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کھل کر اپنی مستقبل کی عالمی پالیسی کے بارے میں بات کی، جو نہ صرف امریکا بلکہ پوری دنیا کے سیاسی منظرنامے کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ صدر ٹرمپ کے بیانات سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ دنیا میں بین الاقوامی قوانین اور اصولوں پر مبنی عالمی نظام، اب اپنی شکل کھو چکا ہے اور امریکی حکمت عملی اب زیادہ تر طاقت اور مفاد پر مبنی ہو گئی ہے۔ ٹرمپ نے وینزویلا پر امریکی فوجی حملے، گرین لینڈ کے حصول کی خواہش، اور یورپ کو خبردار کرنے جیسے بیانات دیے، جو عالمی طاقتوں کے تعلقات پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔ ان کے مطابق امریکا کسی بین الاقوامی قانون، ضابطے یا نگرانی کا پابند نہیں، اور صرف ان کی اپنی اخلاقیات اور ذاتی فیصلے انہیں کسی حد تک روکتے ہیں۔ یہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ امریکا نے اپنے سفارتی اور عسکری رویوں میں روایتی حدود کو ترک کر دیا ہے، اور عالمی طاقت کا استعمال کھلے اور براہِ راست مفاد اور سیاسی بالادستی کے لیے کر رہا ہے۔ وینزویلا کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا وہاں برسوں تک اپنا کنٹرول قائم رکھے گا اور تیل کے ذخائر سے بھرپور فائدہ اٹھائے گا۔ وہ عبوری حکومت کی مدد سے تیل نکالنے اور ملک کو منافع بخش انداز میں دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ یہی رویہ گرین لینڈ کے معاملے میں بھی دہرایا گیا، جہاں وہ ملکیت پر زور دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ لیز یا عارضی معاہدے سے وہ مطلوبہ اثر اور طاقت حاصل نہیں کر سکتے۔ یورپ کو انہوں نے خبردار کیا کہ امریکا کے بغیر ناٹو بے کار ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ٹرمپ عالمی اتحادیوں کو امریکی حکمت عملی کے تابع دیکھنا چاہتے ہیں۔ یوکرین کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ روس کے دوبارہ حملے کی صورت میں امریکا کے کردار کو محدود رکھتے ہوئے مفاہمانہ حمایت فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم ان کا اعتماد صدر ولادیمیر پیوٹن کی امن کی خواہش پر ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ عالمی تنازعات میں براہِ راست مداخلت کے بجائے اپنے مفادات کے تحت مخصوص فیصلے کریں گے، اور عالمی طاقتوں کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ امریکا اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ کرے گا۔

ٹرمپ کے بیانات پر غور کریں تو ایک واضح تصویر اس طرح بنتی ہے کہ امریکا طاقت کے استعمال میں محتاط نہیں، اور عالمی قوانین کے بجائے اپنی مفاد پرستی اور اخلاقیات کو ترجیح دیتا ہے۔ یہی رویہ دنیا میں کشیدگی کے امکانات کو بڑھاتا ہے، اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم تیسری عالمی جنگ کی دہلیز پر کھڑے ہیں؟ روس، چین اور دیگر عالمی طاقتیں اس صورتحال کو گہری نظر سے دیکھ رہی ہیں۔ چین کے صدر شی جن پنگ کی قیادت میں امریکا کی غیر روایتی اور جارحانہ پالیسیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ ٹرمپ نے خود تسلیم کیا ہے کہ چین تائیوان پر حملہ کرنے کی جرأت نہیں کرے گا جب وہ صدر ہوں، لیکن یہ عالمی طاقتوں کے لیے ایک چیلنج بھی ہے کہ کسی بھی غیر متوقع امریکی اقدام سے عالمی توازن متاثر ہو سکتا ہے۔ روس بھی امریکا کی طاقت کے استعمال اور عالمی معاہدوں سے انکار پر محتاط ہے۔ پرنسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر اور گارڈین کے کالم نگار جان ورنر ملر کے مطابق، ٹرمپ کی یہ کارروائیاں امریکی خارجہ پالیسی کے ایک نئے ’’مافیا ریاست‘‘ کے رجحان کو واضح کرتی ہیں، جس میں طاقت، دولت اور سیاسی کنٹرول کو عالمی سطح پر ایک ساتھ استعمال کیا جاتا ہے، اور یہ دنیا بھر میں جمہوری اقدار اور بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک چیلنج کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ ٹرمپ کی عالمی تعمیراتی منصوبہ بندی، جیسے وائٹ ہاؤس کی تزئین و آرائش، گرینڈ بال روم، اور نیشنل گارڈن آف امریکن ہیروز، صرف داخلی اثر و رسوخ کے لیے نہیں بلکہ عالمی منظرنامے میں ایک طاقت کا مظاہرہ بھی ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ نہ صرف سیاسی بلکہ نفسیاتی سطح پر بھی دنیا کو اپنے مفادات کے مطابق ڈیزائن کرنا چاہتے ہیں۔ دنیا کی موجودہ صورتحال، ٹرمپ کے بیانات اور امریکی رویے کے تجزیے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ عالمی طاقتیں دوبارہ اپنے عسکری اور اقتصادی منصوبوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہیں۔ چین، روس اور یورپی ممالک اس صورتحال کو اپنے مفادات کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں، اور امریکا کے جارحانہ اقدامات کے ردِ عمل میں ممکنہ عسکری اور اقتصادی حکمت عملی تیار کر رہے ہیں۔ اگرچہ تیسری عالمی جنگ کا فوری خطرہ نظر نہیں آتا، لیکن موجودہ کشیدگی، طاقت کی غیر متوازن تقسیم اور عالمی اصولوں کی کمزوری سے یہ امکان موجود ہے کہ کسی بھی چھوٹی جنگ یا تنازع بڑے عالمی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

ٹرمپ کے انٹرویو سے یہ بھی واضح ہوا کہ عالمی سیاست اب صرف ڈپلومیسی اور مذاکرات تک محدود نہیں رہی، بلکہ طاقت اور مفاد پر مبنی رویے اس کی بنیاد بن چکے ہیں۔ بین الاقوامی قوانین کے خاتمے کے بعد عالمی سطح پر کوئی بھی ملک اپنے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے، اور یہ منظرنامہ مستقبل میں عالمی کشیدگی اور ممکنہ جنگوں کے امکانات کو بڑھاتا ہے۔ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکا کی جارحانہ پالیسیوں کے اثرات عالم ِ اسلام اور پاکستان پر بھی براہِ راست پڑ سکتے ہیں۔ ایران میں حالات کشیدہ ہیں، اگر عالمی طاقتیں اپنی غیر متوازن اور مفاد پرستانہ حکمت عملی جاری رکھیں، تو مسلم ممالک، خاص طور پر خطے کے سیاسی اور اقتصادی طور پر کمزور ممالک، مشکلات میں آ سکتے ہیں۔ کیونکہ جنوبی ایشیا میں فوجی اور اقتصادی توازن امریکی و بھارتی حکمت عملیوں سے متاثر ہوتا ہے۔ ٹرمپ کی پالیسیوں سے عالمی عدم استحکام بڑھنے کی صورت میں پاکستان کو اپنے دفاعی اور اقتصادی وسائل مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہوگی، اور اسے صرف اپنے ملک کے مفادات کے بجائے امت مسلمہ کی مشترکہ فلاح و تحفظ کے تناظر میں بھی سوچنا ہوگا۔ توانائی، تجارت، اور سیاسی تعلقات میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال پاکستان کی ترقیاتی منصوبوں اور داخلی استحکام پر اثر ڈال سکتی ہے، جبکہ عالمی طاقتوں کے اثر و رسوخ میں اضافہ مسلم دنیا میں تناؤ اور انتشار کو فروغ دے سکتا ہے۔ دنیا ایک نئے اور غیر یقینی عالمی دور میں داخل ہو رہی ہے، جہاں امریکا کی غیر روایتی پالیسی، ٹرمپ جیسے رہنماؤں کے فیصلے، اور عالمی طاقتوں کی ردعمل مستقبل کے امن اور جنگ کی سمت کا تعین کریں گے۔ روس، چین، پاکستان سمیت اور دیگر ممالک کو چاہیے کہ وہ اس نئی حقیقت کو سمجھیں اور اپنے دفاع اور عالمی توازن کے لیے حکمت عملی تیار کریں، ورنہ ممکن ہے کہ دنیا ایک ایسی راہ پر گامزن ہو جائے جہاں تیسری عالمی جنگ کے خطرات نظر انداز نہ کیے جا سکیں۔

اداریہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: تیسری عالمی جنگ بین الاقوامی عالمی طاقتوں اور اقتصادی اپنے مفادات عالمی طاقت حکمت عملی اور عالمی کہ امریکا امریکا کی مفادات کے کے مطابق کہ عالمی سکتا ہے مفاد پر ہوتا ہے ٹرمپ کے کے لیے

پڑھیں:

بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب

بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب ہو گئے ہیں جسے عالمی سفارت کاری میں بنگلہ دیش کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کے وزیر برائے چٹاگانگ ہل ٹریکٹس افیئرز خرابی صحت کے باعث مستعفی

منگل کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں ہونے والے انتخاب میں ڈاکٹر خلیل الرحمان نے قبرص کے امیدوار کو شکست دے کر یہ اہم منصب حاصل کیا۔

مبصرین کے مطابق یہ کامیابی عالمی سطح پر بنگلہ دیش کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار، کثیرالجہتی تعاون اور بین الاقوامی اداروں میں اس کی مضبوط ہوتی ساکھ کا مظہر ہے۔

وزیراعظم طارق رحمان نے ڈاکٹر خلیل الرحمان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کا انتخاب عالمی سطح پر بنگلہ دیش کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور مثبت کردار کا اعتراف ہے۔

مزید پڑھیے: سابق صدر بنگلہ دیش ضیاء الرحمان کی 45ویں برسی: صاحبزادے و وزیراعظم طارق رحمان کا خراج عقیدت

اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کا صدر منتخب ہونے پر وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اس اہم منصب پر بنگلہ دیش کی بہترین نمائندگی کریں گے اور عالمی برادری کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے رابطوں، مکالمے اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں یقین ہے کہ وہ بنگلہ دیش کا نام مزید روشن کریں گے اور عالمی مسائل کے حل کے لیے تعاون اور ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم ان کی نئی ذمہ داریوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔‘

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں چمڑے کی منڈی بحران کا شکار، مدارس اور یتیم خانوں کو خسارہ، وجہ کیا ہے؟

ڈاکٹر خلیل الرحمان جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے باقاعدہ آغاز پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ اس حیثیت میں وہ عالمی امن و سلامتی، پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی، عالمی حکمرانی اور دیگر اہم بین الاقوامی امور پر ہونے والے مباحث اور اجلاسوں کی صدارت کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان نے ڈاکٹر خلیل الرحمان خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب طارق رحمان کی ڈاکٹر خلیل رحمان کو مبارکباد

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار