اربوں کی ٹیمیں، لاکھوں کی چائے
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
پی ایس ایل کے معاملات بہت خراب ہیں، اسے درست انداز میں نہیں چلایا جا رہا، ایسا ہو گیا ویسا ہو گیا۔
آپ نے گزشتہ کچھ عرصے کے دوران علی ترین کو سوشل میڈیا پر ایسے تند تیز بیانات داغتے ہوئے دیکھا ہو گا، ہو سکتا ہے کہ بعض لوگ ان کو درست بھی سمجھ رہے ہوں لیکن پی ایس ایل کے حوالے سے جو تھوڑی بہت نالج مجھے ہے اسے مدنظر رکھتے ہوئے میں جانتا تھا کہ ان کی باتیں مکمل طور پر ٹھیک نہیں۔
اسٹرکچر میں بہتری کی گنجائش تو ہمیشہ ہوتی ہے لیکن پھر بھی یہ پاکستان کرکٹ کا سب سے بڑا پروڈکٹ ہے جس سے پی سی بی کو بھی سالانہ اربوں روپے ملتے ہیں، ویلیوایشن سے قبل ہی سلطانز کے سوا تمام فرنچائز نے معاہدوں میں تجدید پر اتفاق کر لیا تھا، بعد میں فیس میں بھاری اضافے کے باوجود کسی نے یہ نہ کہا کہ ہمیں ٹیم نہیں رکھنی۔
اس سے صاف ظاہر تھا کہ پی ایس ایل کسی کے لیے بھی گھاٹے کا سودا نہیں، سلطانز کو بھاری فیس کھٹک رہی تھی ، شاید انھیں لگا کہ موجودہ ٹیم کو چھوڑ کر نئی خرید لیں گے جو سستی مل جائے گی۔
ڈہرکی شوگر ملز کے نام سے بڈ دستاویز بھی منگوائی گئی لیکن پھر نیلامی سے چند منٹ قبل دستبرداری اختیار کر لی، یعنی کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا 20 ہزار ڈالر، شاید انھیں علم ہو چکا تھا کہ معاملہ اربوں میں جانے والا ہے، ان کی ایک ارب 8 کروڑ فیس کا ریکارڈ ٹوٹ جائے گا۔
بعد میں ایسا ہی ہوا، آپ نے اگر میرا گزشتہ ہفتے کا کالم پڑھا ہو تو اس میں یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ دو ارب تک بات جا سکتی تھی، شاید ایسا ہو بھی جاتا لیکن بڈنگ میں شریک کچھ افراد شاید پروفائل بڑھانے آئے تھے یا انھیں ایسا لگا تھا کہ کروڑ پر معاملہ رک جائے گا۔
البتہ پی ایس ایل نے پرانی کاروباری شخصیات کو غلط ثابت کر دیا،ایف کے ایس ( کنگز مین) کے حوالے سے مجھے اندازہ تھا کہ یہ دور تک جا سکتے ہیں، شارٹ لسٹ شہروں میں حیدرآباد کا نام انہی کو مدنظر رکھتے ہوئے شامل کیا گیا تھا۔
نیلامی میں جس طرح ان کی جانب سے بڑا اضافہ سامنے آتے رہااس سے واضح تھا کہ وہ ہر حال میں ٹیم لینا چاہتے ہیں اور 2 ارب سے آگے بھی جا سکتے تھے،ایک ارب 75 کروڑ میں پہلی ٹیم فروخت ہونے کے بعد پی سی بی نے بڑی مہارت سے ریزرو پرائس بڑھا دی یوں سستی دوسری ٹیم خریدنے کا خواب دیکھنے والوں کے ارمان ٹھنڈے پڑ گئے۔
او زی گروپ کے اونر حمزہ مجید کو میں نہیں جانتا لیکن پارٹنر کامل خان کے ساتھ پرانی واقفیت ہے، وہ بہت متحرک شخصیت کے مالک ہیں،انھوں نے بھی ٹیم لینے کا تہیہ کیا ہوا تھا لہذا ریکارڈ ایک ارب 85 کروڑ میں فرنچائز خرید کر اسے سیالکوٹ کا نام دے دیا، یوں دونوں نئی ٹیمیں غیرملکی (امریکا اور آسٹریلیا ) کی کاروباری شخصیات کو مل گئیں۔
کچھ شریک افراد خاموش بیٹھے رہے یا رسمی طور پر ایک آدھ بولی دے دی، شاید ان کو لگا ہو کہ ریزرو پرائس بھی میچ نہ ہو پائے گی لیکن سب اندازے غلط سامنے ہو گئے، ان کو چائے بھی 20 ہزار ڈالر (56 لاکھ روپے سے زائد) کی پڑی۔
ہاں دوستوں کو یہ بتانے کا موقع ضرورمل گیا کہ ’’ تمہارا بھائی ٹی وی پر آئے گا نیلامی ضرور دیکھنا‘‘۔ پی سی بی نے تقریب میں مجھے مدعو کیا تھا لیکن میں کسی وجہ سے نہ جا سکا البتہ ٹی وی پر اسے لائیو دیکھا۔
وسیم اکرم نے اچھے انداز میں اسے کنڈکٹ کیا، دفاعی چیمپئن لاہور قلندرز کے اونر عاطف رانا پریس کانفرنس میں بھی ساتھ بیٹھے نظر آئے جو کہ خوش آئند رہا، البتہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ تمام اونرز کو رسمی طور پر مدعو کرنے کے بجائے خاص مہمانان کے طور پر بلایا جاتا اور عزت افزائی کی جاتی۔
خیر جتنے بہترین اور شفاف انداز میں یہ پراسس مکمل ہوا اس پر محسن نقوی، سلمان نصیر و دیگر آفیشلز داد کے مستحق ہیں، تقریب لائیو ٹیلی کاسٹ ہوئی، سب کو شرکت کا موقع ملا، علی ترین نے اتنی منفی باتیں کیں انھیں بھی بلیک لسٹ کر کے ہیرو بننے کا موقع نہ دیا گیا۔
یہ سب بہترین حکمت علی کا منہ بولتا ثبوت تھا، اب لیگ کو اور بڑا بنانا ہوگا، فرنچائز فیس سینٹرل پول میں نہیں جاتی یہ پی سی بی کو ملتی ہے لہٰذا ٹیموں کیلیے بورڈ کو نئے بڑے معاہدے کرنا ہوں گے، میچز بھی بڑھ جائیں گے لہذا میڈیا رائٹس کنٹریکٹ میں بھی خطیر اضافے کا امکان ہے۔
نئے معاہدوں میں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ بروقت ادائیگیاں بھی ہوں، اب 2 فرنچائز بڑھ گئی ہیں لہٰذا آمدنی میں اضافہ بھی ضروری ہے، نئی ٹیموں کیلیے آتے ہی منافع کمانا بھی آسان نہ ہو گا، ان کو پی سی بی نے 5 سال تک 85 کروڑ تو کم از کم سینٹرل پول کی مد میں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
یوں ایک ٹیم کو ایک ارب اوردوسری کو 90 کروڑ جیب سے خرچ کرنا ہوں گے، کم از کم 50،60 کروڑ پلیئرز و آفیشلز کی فیس،سفری و رہائشی انتظامات و دیگر الگ ہیں، ڈیڑھ ارب روپے سالانہ کور کرنا آسان نہیں لیکن یقینی طور پر ان کا کوئی نہ کوئی بزنس ماڈل ہوگا۔
اتنی بڑی کاروباری شخصیات ایسے ہی کسی کام میں ہاتھ نہیں ڈال سکتیں، ریٹینشن کا معاملہ بھی چل رہا ہے، نئی ٹیمیں زیرو ریٹینشن کے حق میں ہیں، پرانی فرنچائز 8 کے بجائے 5 کا کہہ رہی ہیں، شاید 3 پر معاملہ طے ہو جائے۔
زیرو ریٹینشن سے پرانی ٹیمیں شدید متاثر ہوں گی لہذا مل بیٹھ کر ہی کوئی فیصلہ کرنا چاہیے، زیادہ پیسہ کمانے والی اولاد والدین کو بھی اچھی لگتی ہے، یقینی طور پر پی سی بی کو بھی نئی فرنچائز پر اس وقت بہت پیار آ رہا ہو گا لیکن اس کے ساتھ پرانے اونرز کو بھی نہ بھولیں، وہ برے وقت کے ساتھی ہیں۔
جب کوئی آنے کو تیار نہ تھا، سب مل کر پی ایس ایل کو مزید بڑا برانڈ بنائیں، اب تو سنا ہے ملتان سلطانز کو بھی جلد فروخت کرنے کا ارادہ کرلیا گیا ہے جو درست فیصلہ ہوگا، شاید اس بار 2 ارب روپے کا میجیکل فیگر عبور ہو جائے، فی الحال نقوی صاحب کیلیے ویلڈن جو ایک اور محاذ پر کامیاب ہو گئے۔
(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ایس ایل پی سی بی ایک ارب کو بھی تھا کہ
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔