Express News:
2026-07-24@13:04:33 GMT

اربوں کی ٹیمیں، لاکھوں کی چائے

اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT

پی ایس ایل کے معاملات بہت خراب ہیں، اسے درست انداز میں نہیں چلایا جا رہا، ایسا ہو گیا ویسا ہو گیا۔

آپ نے گزشتہ کچھ عرصے کے دوران علی ترین کو سوشل میڈیا پر ایسے تند تیز بیانات داغتے ہوئے دیکھا ہو گا، ہو سکتا ہے کہ بعض لوگ ان کو درست بھی سمجھ رہے ہوں لیکن پی ایس ایل کے حوالے سے جو تھوڑی بہت نالج مجھے ہے اسے مدنظر رکھتے ہوئے میں جانتا تھا کہ ان کی باتیں مکمل طور پر ٹھیک نہیں۔

اسٹرکچر میں بہتری کی گنجائش تو ہمیشہ ہوتی ہے لیکن پھر بھی یہ پاکستان کرکٹ کا سب سے بڑا پروڈکٹ ہے جس سے پی سی بی کو بھی سالانہ اربوں روپے ملتے ہیں، ویلیوایشن سے قبل ہی سلطانز کے سوا تمام فرنچائز نے معاہدوں میں تجدید پر اتفاق کر لیا تھا، بعد میں فیس میں بھاری اضافے کے باوجود کسی نے یہ نہ کہا کہ ہمیں ٹیم نہیں رکھنی۔

اس سے صاف ظاہر تھا کہ پی ایس ایل کسی کے لیے بھی گھاٹے کا سودا نہیں، سلطانز کو بھاری فیس کھٹک رہی تھی ، شاید انھیں لگا کہ موجودہ ٹیم کو چھوڑ کر نئی خرید لیں گے جو سستی مل جائے گی۔

ڈہرکی شوگر ملز کے نام سے بڈ دستاویز بھی منگوائی گئی لیکن پھر نیلامی سے چند منٹ قبل دستبرداری اختیار کر لی، یعنی کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا 20 ہزار ڈالر، شاید انھیں علم ہو چکا تھا کہ معاملہ اربوں میں جانے والا ہے، ان کی ایک ارب 8 کروڑ فیس کا ریکارڈ ٹوٹ جائے گا۔

بعد میں ایسا ہی ہوا، آپ نے اگر میرا گزشتہ ہفتے کا کالم پڑھا ہو تو اس میں یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ دو ارب تک بات جا سکتی تھی، شاید ایسا ہو بھی جاتا لیکن بڈنگ میں شریک کچھ افراد شاید پروفائل بڑھانے آئے تھے یا انھیں ایسا لگا تھا کہ کروڑ پر معاملہ رک جائے گا۔

البتہ پی ایس ایل نے پرانی کاروباری شخصیات کو غلط ثابت کر دیا،ایف کے ایس ( کنگز مین) کے حوالے سے مجھے اندازہ تھا کہ یہ دور تک جا سکتے ہیں، شارٹ لسٹ شہروں میں حیدرآباد کا نام انہی کو مدنظر رکھتے ہوئے شامل کیا گیا تھا۔

نیلامی میں جس طرح ان کی جانب سے بڑا اضافہ سامنے آتے رہااس سے واضح تھا کہ وہ ہر حال میں ٹیم لینا چاہتے ہیں اور 2 ارب سے آگے بھی جا سکتے تھے،ایک ارب 75 کروڑ میں پہلی ٹیم فروخت ہونے کے بعد پی سی بی نے بڑی مہارت سے ریزرو پرائس بڑھا دی یوں سستی دوسری ٹیم خریدنے کا خواب دیکھنے والوں کے ارمان ٹھنڈے پڑ گئے۔

او زی گروپ کے اونر حمزہ مجید کو میں نہیں جانتا لیکن پارٹنر کامل خان کے ساتھ پرانی واقفیت ہے، وہ بہت متحرک شخصیت کے مالک ہیں،انھوں نے بھی ٹیم لینے کا تہیہ کیا ہوا تھا لہذا ریکارڈ ایک ارب 85 کروڑ میں فرنچائز خرید کر اسے سیالکوٹ کا نام دے دیا، یوں دونوں نئی ٹیمیں غیرملکی (امریکا اور آسٹریلیا ) کی کاروباری شخصیات کو مل گئیں۔

کچھ شریک افراد خاموش بیٹھے رہے یا رسمی طور پر ایک آدھ بولی دے دی، شاید ان کو لگا ہو کہ ریزرو پرائس بھی میچ نہ ہو پائے گی لیکن سب اندازے غلط سامنے ہو گئے، ان کو چائے بھی 20 ہزار ڈالر (56 لاکھ روپے سے زائد) کی پڑی۔

ہاں دوستوں کو یہ بتانے کا موقع ضرورمل گیا کہ ’’ تمہارا بھائی ٹی وی پر آئے گا نیلامی ضرور دیکھنا‘‘۔ پی سی بی نے تقریب میں مجھے مدعو کیا تھا لیکن میں کسی وجہ سے نہ جا سکا البتہ ٹی وی پر اسے لائیو دیکھا۔

وسیم اکرم نے اچھے انداز میں اسے کنڈکٹ کیا، دفاعی چیمپئن لاہور قلندرز کے اونر عاطف رانا پریس کانفرنس میں بھی ساتھ بیٹھے نظر آئے جو کہ خوش آئند رہا، البتہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ تمام اونرز کو رسمی طور پر مدعو کرنے کے بجائے خاص مہمانان کے طور پر بلایا جاتا اور عزت افزائی کی جاتی۔

خیر جتنے بہترین اور شفاف انداز میں یہ پراسس مکمل ہوا اس پر محسن نقوی، سلمان نصیر و دیگر آفیشلز داد کے مستحق ہیں، تقریب لائیو ٹیلی کاسٹ ہوئی، سب کو شرکت کا موقع ملا، علی ترین نے اتنی منفی باتیں کیں انھیں بھی بلیک لسٹ کر کے ہیرو بننے کا موقع نہ دیا گیا۔

یہ سب بہترین حکمت علی کا منہ بولتا ثبوت تھا، اب لیگ کو اور بڑا بنانا ہوگا، فرنچائز فیس سینٹرل پول میں نہیں جاتی یہ پی سی بی کو ملتی ہے لہٰذا ٹیموں کیلیے بورڈ کو نئے بڑے معاہدے کرنا ہوں گے، میچز بھی بڑھ جائیں گے لہذا میڈیا رائٹس کنٹریکٹ میں بھی خطیر اضافے کا امکان ہے۔

نئے معاہدوں میں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ بروقت ادائیگیاں بھی ہوں، اب 2 فرنچائز بڑھ گئی ہیں لہٰذا آمدنی میں اضافہ بھی ضروری ہے، نئی ٹیموں کیلیے آتے ہی منافع کمانا بھی آسان نہ ہو گا، ان کو پی سی بی نے 5 سال تک 85 کروڑ تو کم از کم سینٹرل پول کی مد میں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

یوں ایک ٹیم کو ایک ارب اوردوسری کو 90 کروڑ جیب سے خرچ کرنا ہوں گے، کم از کم 50،60 کروڑ پلیئرز و آفیشلز کی فیس،سفری و رہائشی انتظامات و دیگر الگ ہیں، ڈیڑھ ارب روپے سالانہ کور کرنا آسان نہیں لیکن یقینی طور پر ان کا کوئی نہ کوئی بزنس ماڈل ہوگا۔

اتنی بڑی کاروباری شخصیات ایسے ہی کسی کام میں ہاتھ نہیں ڈال سکتیں، ریٹینشن کا معاملہ بھی چل رہا ہے، نئی ٹیمیں زیرو ریٹینشن کے حق میں ہیں، پرانی فرنچائز 8 کے بجائے 5 کا کہہ رہی ہیں، شاید 3 پر معاملہ طے ہو جائے۔

زیرو ریٹینشن سے پرانی ٹیمیں شدید متاثر ہوں گی لہذا مل بیٹھ کر ہی کوئی فیصلہ کرنا چاہیے، زیادہ پیسہ کمانے والی اولاد والدین کو بھی اچھی لگتی ہے، یقینی طور پر پی سی بی کو بھی نئی فرنچائز پر اس وقت بہت پیار آ رہا ہو گا لیکن اس کے ساتھ پرانے اونرز کو بھی نہ بھولیں، وہ برے وقت کے ساتھی ہیں۔

جب کوئی آنے کو تیار نہ تھا، سب مل کر پی ایس ایل کو مزید بڑا برانڈ بنائیں، اب تو سنا ہے ملتان سلطانز کو بھی جلد فروخت کرنے کا ارادہ کرلیا گیا ہے جو درست فیصلہ ہوگا، شاید اس بار 2 ارب روپے کا میجیکل فیگر عبور ہو جائے، فی الحال نقوی صاحب کیلیے ویلڈن جو ایک اور محاذ پر کامیاب ہو گئے۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پی ایس ایل پی سی بی ایک ارب کو بھی تھا کہ

پڑھیں:

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔

ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔

خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔

وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔

زیارت کیوں بھیجا گیا

اصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔

شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔

تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے

36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔

کراچی، وہ بھی ستمبر میں

اب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔

اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔

ایمبولینس کا قصہ

اب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟

اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟

میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔

کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائد

ہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔

سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔

حرفِ آخر

صاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔

مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔

ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔

میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی

متعلقہ مضامین

  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • پی سی بی نے ڈومیسٹک سیزن میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کردیا
  • ایشین گیمز 2026 :کرکٹ مقابلوں کے شیڈول اور گروپس کا اعلان
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا