data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پی آئی اے کی نجکاری محض ایک ادارے کی فروخت کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ پاکستان کی مجموعی معاشی سوچ، ریاستی حکمتِ عملی اور حکمرانی کے پورے ماڈل پر ایک گہرا اور تشویشناک سوال ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کا امتحان ہے کہ آیا پاکستان ایک پیداواری، اصلاح پسند اور خودمختار ریاست بننا چاہتا ہے، یا پھر ایک ایسی ریاست جو ہر مالی بحران میں اپنے ہی اثاثے بیچ کر وقتی سانس لینے کو نجات سمجھ لے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ پی آئی اے خسارے میں کیوں ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم آخر کب تک ادارے بیچ کر گزارا کرتے رہیں گے؟ کیا یہ ایک مستقل حل ہے یا صرف چند دن کی مہلت خریدنے کا طریقہ؟ اگر ہر مالی بحران کا جواب قومی اثاثوں کی فروخت بن جائے تو یہ معیشت کی بحالی نہیں بلکہ اس کی بتدریج نیلامی ہے۔
پاکستان کے عوام کو یہ حقیقت یاد رکھنی چاہیے کہ چین جب 1949 میں آزاد ہوا تو پاکستان ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے اس نوآزاد ریاست کی مدد کی۔ یہ کوئی افسانہ نہیں کہ پاکستان نے چین کو پی آئی اے کا طیارہ بطور تحفہ دیا۔ یہ اقدام محض سفارتی خیرسگالی نہیں تھا بلکہ اس حقیقت کی علامت تھا کہ پی آئی اے ایک مضبوط، باوقار اور بین الاقوامی معیار کا ادارہ تھا۔ یہی پی آئی اے ایشیا کی اولین ایئرلائنز میں شمار ہوتی تھی، جس کے پائلٹس، انجینئرز اور انتظامی نظام کو مثال کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ آج سوال یہ ہے کہ وہی ادارہ، جو کبھی قومی وقار کی علامت تھا، بدحالی کا شکار کیوں ہوا؟ کیا جہاز اچانک پرانے ہو گئے؟ کیا پائلٹ یکایک نااہل ہو گئے؟ یا پھر اصل خرابی اس نظام میں تھی جس نے اس ادارے کو دہائیوں تک سیاسی مداخلت، میرٹ کی پامالی اور ناقص حکمرانی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا؟
پی آئی اے کی نجکاری ایسے پیش کی جا رہی ہے جیسے یہ کسی لاعلاج بیماری کا واحد علاج ہو۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ طرزِ فکر بالکل ویسا ہے جیسے بیماری کی درست تشخیص کیے بغیر مریض کو زہر کا انجکشن لگا دیا جائے۔ وقتی طور پر شاید کچھ مالی دباؤ کم ہو جائے، مگر مریض کی جان بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ یہی طرزِ عمل ماضی میں بھی اپنایا گیا۔ ’’قرض اتارو، ملک بچاؤ‘‘ کے نعرے کے تحت قوم نے قربانیاں دیں، ٹیکس ادا کیے، مہنگائی برداشت کی، مگر نتیجہ کیا نکلا؟ قرض کم ہونے کے بجائے بڑھتا گیا، اور ملک مضبوط ہونے کے بجائے مزید کمزور ہوتا چلا گیا۔ یہ تجربہ ہمیں بار بار یہ سبق دیتا ہے کہ وقتی فیصلے دیرپا مسائل کا حل نہیں ہوتے۔
اس پورے معاملے کو ایک سادہ مگر گہری مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر آپ کے پاس ایک گائے ہے تو آپ اسے ذبح کر کے چند دن گوشت کھا سکتے ہیں۔ مگر پھر کیا ہوگا؟ گوشت ختم ہو جائے گا اور ذریعہ روزگار بھی۔
(جاری ہے)
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پی ا ئی اے
پڑھیں:
راولپنڈی میں ہوٹل سے سرکاری ادارے کے اہلکار کی پھندا لگی لاش برآمد
تھانہ نیو ٹاؤن کے ہوٹل سے سرکاری ادارے کے اہلکار کی پھندا لگی لاش برآمد ہوئی ہے۔
پولیس کے مطابق سندھ سے تعلق رکھنے والے کاشف علی نے ہوٹل کا کمرہ بک کرایا تھا، کافی وقت گزرنے پر کمرے سے جواب نہ ملنے پر ہوٹل انتظامیہ نے پولیس سے رجوع کیا۔
پولیس پہنچنے پر کمرہ کھولا گیا تو اندر سے کاشف علی کی پھندا لگی نعش ملی، پولیس نے فرانزک شواہد اکٹھے کرکے لاش پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردی۔