بغیر آنسوؤں کے پیاز کاٹنا ہوا ممکن
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پیاز دنیا کی سب سے عام مگر ضروری سبزیوں میں شمار ہوتی ہے، جس کے بغیر تقریباً ہر کھانے کا ذائقہ ادھورا لگتا ہے۔ تاہم، جتنا لذیذ یہ سبزی کھانے میں لگتی ہے، اسے کاٹنا اتنا ہی تکلیف دہ تجربہ بن جاتا ہے، کیونکہ پیاز کاٹتے ہی آنکھوں میں جلن اور بے اختیار آنسو بہنا شروع ہو جاتے ہیں۔بین الاقوامی سطح پہ ہونے والی تحقیق کےمطابق پیاز کو کاٹنے سے پہلے اگر اس پر ہلکی سی تیل کی تہہ لگا لی جائے یا تیز دھار چھری سے آہستگی سے کاٹا جائے، تو آنکھوں میں جلن اور آنسو بہنے سے بچا جا سکتا ہے۔تحقیق کے مطابق پیاز کے خلیات جب چھری سے دبائے جاتے ہیں تو ان سے سلفر کیمیکلز کی چھوٹی بوندیں فضا میں نکلتی ہیں، جو آنکھوں تک پہنچ کر جلن پیدا کرتی ہیں۔ تحقیق میں پہلی بار واضح کیا گیا کہ چھری پیاز کے خلیات کو چیرتے وقت ان سے مائع بوندیں 11 سے 89 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے خارج ہوتی ہیں۔ کند چھری یا تیزی سے کاٹنا اس مقدار کو بڑھا دیتا ہے، جس سے آنکھوں میں زیادہ جلن ہوتی ہے۔محققین نے تیز رفتار کیمروں اور کمپیوٹر ماڈلز کی مدد سے یہ عمل تفصیل سے سمجھا اور بتایا کہ اگر چھری تیز ہو اور پیاز کو آہستگی سے کاٹا جائے تو اشک آور مرکبات کی مقدار کم رہتی ہے، جس سے آنکھیں محفوظ رہتی ہیں۔یہ تحقیق سائنسی جریدے میں شائع ہوئی، اور اب گھر کے شیف اور باورچی حضرات کے لیے یہ خبر خوش آئند ہے، کیونکہ شاید پہلی بار پیاز کاٹنا بغیر آنسوؤں کے ممکن ہوگیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا نکھوں
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز