پی ٹی آئی کارکنان پر شیلنگ اور گرفتاریاں کھلی آمریت ہے،زین شاہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر)صدر سندھ یونائیٹڈ پارٹی و وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان زین شاہ نے کہا ہے کہ نمائش چورنگی پر پولیس کی جانب سے پاکستان تحریک
انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں پر شیلنگ اور گرفتاریاں کھلی آمریت ہے،آئین کو روند کر سیاسی آوازیں دبائی جا رہی ہیں، پرامن سیاسی کارکنوں پر لاٹھیاں اور جیلیں، یہ جمہوریت نہیں جبر ہے۔ زین شاہ نے کہا کہ ریاستی طاقت کا بے دریغ استعمال ناقابلِ قبول ہے،سیاسی انتقام نے قانون کی دھجیاں اڑا دی ہیں، شیلنگ، تشدد اور گرفتاریاں حکومتی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہیں،طاقت کے ذریعے سیاست ختم نہیں کی جا سکتی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثنا اللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے، سعدیہ جاوید
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ سیاسی بے چینی اس بات کی غماز ہے کہ اسے آزاد کشمیر کے انتخابات میں شکست کا واضح خدشہ ہے، اسی لیے عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے سیاسی محاذ آرائی کو ہوا دی جا رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناءاللہ کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثناءاللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے۔ اپنے بیان میں سعدیہ جاوید نے کہا کہ کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات کا سامنا کرنے والے عناصر کو اخلاقیات، دیانت داری اور شفافیت پر بات کرنے کا کوئی اخلاقی جواز حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ رانا ثنا اللہ ہوش کے ناخن لیں اور سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے بے بنیاد بیانات دینے سے گریز کریں کیونکہ پیپلز پارٹی کے خلاف ہر الزام اور ہر بیان کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ سندھ کے خلاف زہر اگلنے والوں کو پہلے شریف خاندان کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں، بیرون ملک جائیدادوں اور دیگر معاملات کا جواب دینا چاہیئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض سیاسی رہنما اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے بے بنیاد کہانیاں گھڑ رہے ہیں، جبکہ ان کی سیاست ہمیشہ سہاروں، ڈیلز اور مفاہمت پر قائم رہی ہے۔ سعدیہ جاوید نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ سیاسی بے چینی اس بات کی غماز ہے کہ اسے آزاد کشمیر کے انتخابات میں شکست کا واضح خدشہ ہے، اسی لیے عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے سیاسی محاذ آرائی کو ہوا دی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے وسائل پر نظر رکھنے والے سیاسی عناصر پہلے اپنے طرزِ سیاست کا جائزہ لیں، جس جماعت کی بنیاد، ان کے بقول، جمہوری اقدار کی مخالفت پر استوار رہی ہو، وہ پیپلز پارٹی کو عوامی مینڈیٹ اور سیاسی شعور کا درس نہ دے۔ ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ عوام اب سیاسی نعروں اور الزامات کی سیاست سے بخوبی آگاہ ہو چکے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے بیانیے کو مسترد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی شعور میں اضافے کے بعد اس نوعیت کی سیاست مزید کامیاب نہیں ہو سکے گی۔