اسرائیلی شہریوں کا نیتن یاہو کی حکومت کیخلاف احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تل ابیب (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیلی وزیراعظم پر اپنے ہی لوگ سوال اٹھانے لگے، تل ابیب میں ہزاروں صیہونی شہری نیتن یاہو کی حکومت کیخلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ہزاروں مظاہرین نے تل ابیب کی سڑکوں پر حکومت کی تبدیلی کے حق میں نعرے بازی کی، مظاہرین نے 7 اکتوبر 2023ء کے واقعات پر آزاد تحقیقاتی کمیشن کے
قیام کا مطالبہ بھی کیا۔ خیال رہے کہ بڑی تعداد میں اسرائیلی عوام وزیر اعظم نیتن یاہو کی پالیسیوں اور سیاسی فیصلوں سے نالاں ہے، مظاہرین کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو عدلیہ کی آزادی کو کم کرنا چاہتے ہیں تاکہ اپنی طاقت کو مضبوط بنائیں، اور عدالتیں ان کے خلاف مقدمات میں ان کا مقابلہ نہ کر سکیں۔ کئی احتجاجیوں، خاص طور پر یرغمالیوں کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ حکومت غزہ کی جنگ میں ناکام ہے اور احاطے میں قابو پانے یا یرغمالیوں کو آزاد کروانے میں مؤثر کردار نہیں ادا کر رہی، وہ چاہتے ہیں کہ نیتن یاہو ایسی ڈیل تک پہنچیں جس سے ہر ممکنہ طریقے سے یرغمالیوں کی رہائی ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نیتن یاہو
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔