کالے بلدیاتی قانون کیخلاف عوامی ریفرنڈم کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260112-05-20
لاہور(نمائندہ جسارت) جماعت اسلامی پنجاب کے امیر محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کا نافذ کردہ نیا بلدیاتی ایکٹ ایک سیاہ قانون ہے جو عوام کو ان کے بنیادی جمہوری حق سے محروم کرنے کی سازش ہے۔ اس کالے قانون کے خلاف جماعت اسلامی کی صوبہ بھر میں بھرپور عوامی تحریک جاری ہے جس کی قیادت امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں 15 جنوری کو پورے پنجاب میں عوامی ریفرنڈم منعقد کیا جائے گا، جس میں صوبے کے عوام بلدیاتی کالے قانون کے خلاف اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔محمد جاوید قصوری نے کہا کہ بلدیاتی نظام کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے، مگر موجودہ حکومت نے بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے کے بجائے انہیں بیوروکریسی کے ماتحت کر دیا ہے، جو عوامی نمائندوں کے حقوق سلب کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانون عوام کو براہِ راست فیصلوں کے عمل سے دور کرنے اور اختیارات چند سرکاری افسران تک محدود کرنے کی دانستہ کوشش ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔امیر جماعت اسلامی پنجاب نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر کروائے جائیں تاکہ ہارس ٹریڈنگ، لوٹا کریسی اور کرپشن کا خاتمہ ہو۔ جماعتی نظام کے تحت عوام کو واضح انتخاب ملتا ہے اور منتخب نمائندے اپنی جماعت کے منشور اور عوامی وعدوں کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر جماعتی انتخابات ہمیشہ سودے بازی اور طاقتور عناصر کے اثر و رسوخ کو بڑھاتے ہیں، جس کا خمیازہ عام شہری کو بھگتنا پڑتا ہے۔محمد جاوید قصوری نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی عوامی مسائل کے حل، شفاف طرزِ حکمرانی اور مضبوط بلدیاتی نظام پر یقین رکھتی ہے۔ اسی مقصد کے لیے 15 جنوری کا عوامی ریفرنڈم نہایت اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی یہ تحریک کسی ایک جماعت یا گروہ کے لیے نہیں بلکہ پورے صوبے کے عوام کے مستقبل کے لیے ہے۔ جب تک عوام کو ان کا حق واپس نہیں مل جاتا اور ایک بااختیار، شفاف اور جماعتی بنیادوں پر مبنی بلدیاتی نظام نافذ نہیں کیا جاتا، جماعت اسلامی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی نے کہا کہ عوام کو
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔