قابض پیپلز پارٹی نے سندھ کو قوم پرستی کی بنیاد تقسیم کیا، حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
طویل عرصے سے قابض اور اسٹیبلشمنٹ کی اے ٹیم کے طور پر کام کررہی ہے، عوام کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے
ٹرمپ ڈھٹائی سے جہاں چاہے وہاں حملہ کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے،سالانہ تقریب ختم بخاری سے خطاب
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ موجودہ دنیا کا سب سے بڑا طاغوت امریکہ ہے، ٹرمپ ڈھٹائی سے جہاں چاہے وہاں حملہ کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے اور نعوذ باللہ خدا کے لہجے میں بات کرتا ہے۔ پیپلز پارٹی سندھ پر طویل عرصے سے قابض اور اسٹیبلشمنٹ کی اے ٹیم کے طور پر کام کررہی ہے، اس نے صوبہ کو قوم پرستی کی بنیاد پر تقسیم کررکھا ہے۔ جماعت اسلامی سندھ عوام کو اکیلا نہیں چھوڑے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ کی دینی درسگاہ جامعہ جامعہ علوم اسلامیہ منصورہ ہالا میں سالانہ تقریب ختم بخاری سے خطاب کے دوران کیا۔ صوبائی امیر کاشف سعید شیخ، مدیر جامعہ مولانا احسن بھٹو،صوبائی نائب امراء پروفیسر نظام الدین میمن، حافظ نصراللہ چنا، جنرل سیکریٹری محمد یوسف، امیر ضلع فقیر محمد منصوری، ادارہ تعمیر ملت کے صدر چوہدری نثار، سیکرٹری محمد حنیف شیخ سمیت دیگر صوبائی ذمے داران بھی موجود تھے۔ قبل ازیں امیر جماعت اسلامی کا جامعہ منصورہ آمد پر فقید المثال استقبال اور سندھ کا روایتی تحفہ اجرک پیش کیا گیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ طاغوتی قوتیں مسلمانوں کی نسل کشی کر رہی ہیں۔غزہ میں نیتن یاہو نے ہزاروں بچوں کو شہید کیا اور لاکھوں گھر مسمار کردیے، صدر ٹرمپ نیتن یاہو کا سرپرست ہے۔ اب جب ایران میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں تو تب ان کو عوام یاد آرہے ہیں یہ لوگ اپنے مفادات کے محافظ ہیں۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پیپلزپاٹی کو اسٹیبلشمنٹ نے سندھ میں کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ ایک خاندان گذشتہ 17 سال سے سندھ میں حکومت میں ہے مگر 78لاکھ بچے اسکول نہیں جاتے، پیپلز پارٹی اور ان کے رہنماؤں کو کوئی شرم نہیں آتی۔ وفاق سے ملنے والے ہزاروں ارب روپے سندھ حکومت کو ملے مگر یہ سب کھا گئے اور کام صرف کاغذوں میں دکھایا گیا۔ سندھ میں عوام کو بیدار ہونا پڑے گا۔ احکمرانوں نے عوام سے روزگار صحت تعلیم کا حق چھینا ہے، کاشتکاروں کو اپنا حق نہیں ملتا۔ عوام کو اس ظلم سے نجات چاہیے، کاشف سعید شیخ کی قیادت میں سلگتے مسائل لیکر عوام کے پاس جائیں گیاور حکمرانوں کا گھیراؤ کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنریشن زی میں صرف اسکول کے بچے نہیں بلکہ مدارس، کاشتکاروں، محنت کشوں کے بچے اور بھٹہ میں کام کرنے والے بھی شامل ہیں۔پورے سندھ میں بچوں کو آئی ٹی کورس سمیت بچوں کو کھیلوں اور ہنر میں بھی آگے بڑھائیں گے۔ ان شائاللہ عوام اور نوجوانوں کی قوت سے اس ظلم و جبر کے نظام کو بدلیں گے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہاکہ مولانا شفیع محمد نظامانی، مولانا جان محمد بھٹو، چوہدری غلام محمد مرحوم اور پروفیسر سید محمد سلیم سمیت دیگر اکابرین کی جامعہ منصورہ کی ترقی اور دعوت دین کے لیے کی جانے والی خدمات قابل تحسین ہیں۔اس جامعہ سے نکلنے والے لوگ پوری دنیا میں اقامت دین کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں جو یہاں کے منتظمین و تحریک اسلامی کے لیے فخر کی بات ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: امیر جماعت اسلامی عوام کو نے کہا
پڑھیں:
حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اہلِ سنت پاکستان کراچی کے وفد نے حضرت علامہ سید شاہ عبد الحق قادری کی قیادت میں سندھ کے صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دینی امور، مساجد، مدارس، محکمہ اوقاف کے زیر انتظام مزاراتِ اولیائے کرام کی دیکھ بھال زائرین کو سہولیات کی فراہمی سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد میں سید رفیق شاہ، مفتی بلال قادری، مولانا جمیل احمد امینی، عبداللہ میمن اور شفیع رانا قادری بھی شامل تھے۔ وفد نے صوبائی وزیر کو کراچی سمیت سندھ بھر میں مساجد، مدارس اور مزارات کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور مختلف تجاویز پیش کیں۔
شاہ عبد الحق قادری نے اس موقع پر کہا کہ حکومتی ادارے مساجد، مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان کریں۔ انہوں نے محکمہ اوقاف کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے، انتظامی مسائل کے حل اور مسلسل رابطہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔