پنجاب فرانزک لیب رپورٹ: 9 مئی واقعات میں سہیل آفریدی، تیمور جھگڑا کی موجودگی کی تصدیق
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
پشاور+ لاہور (نوائے وقت رپورٹ) پنجاب فرانزک لیبارٹری نے پشاورمیں 9 مئی واقعات کی ویڈیوزکی تصدیقی رپورٹ تیار کر لی۔ رپورٹ کے مطابق 9 مئی واقعات میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ، کامران بنگش ، تیمور جھگڑا اورعرفان سلیم کی موجودگی کی تصدیق ہو گئی، پنجاب فرانزک لیبارٹری نے پشاورپولیس کی درخواست پر9 مئی واقعات کی ویڈیوزاور آڈیو ویڑول کا تجزیہ کیا۔ یہ رپورٹ پشاور کے تھانہ شرقی کی بھجوائی گئی یو ایس بی میں موجود ویڈیوز پر مبنی ہے، یو ایس بی میں موجود 16 ویڈیوز کا فریم بہ فریم تجزیہ کیا گیا، ویڈیوز میں کسی قسم کی ایڈیٹنگ کے شواہد نہیں ملے، چند ویڈیوزمیں لوگوں اور ٹیکسٹ کے اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق سہیل آفریدی اورعرفان سلیم کی دو ویڈیوزمیں کلپس جوڑنے کے شواہد بھی سامنے آئے، سہیل آفریدی کی پروفائل تصویر کو 9 مئی کی ویڈیو سے ملا کر دیکھا گیا، سہیل آفریدی کی پروفائل تصویر اور ویڈیو میں موجود شخص ایک ہی ہے۔عرفان سلیم کی پروفائل تصویرکی بھی ویڈیوز میں موجود ہونے کی تصدیق ہوگئی، کامران بنگش کی پروفائل تصویر اور ویڈیو میں موجود شخص ایک ہی قرار دیے گئے، تیمور جھگڑا کی پروفائل تصویر اور ویڈیوز میں موجود شخص میں مطابقت پائی گئی۔ رپورٹ کی تیاری 19 دسمبر سے 23 دسمبر 2025ء کے دوران مکمل کی گئی، انسداد دہشت گردی عدالت نے ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں پولیس سے رپورٹ طلب کی تھی۔پشاورپولیس نے ویڈیوز تجزیے کے لیے پنجاب فرانزک لیبارٹری بھیجی تھیں۔ دریں اثنا وزیراعلی خیبرپی کے سہیل آفریدی کی پنجاب اسمبلی آمد پر ہنگامہ آرائی کی تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا۔اسمبلی ذرائع کے مطابق آئی جی پنجاب نے ہنگامہ آرائی کی رپورٹ پر مزید کارروائی کیلئے کاپی محکمہ داخلہ پنجاب کو بھی ارسال کر دی، رپورٹ کی روشنی میں مزید اداروں سے بھی شواہد اکٹھے کئے جائیں گے۔آئی جی آفس نے رپورٹ پر کارروائی کے حوالے پنجاب سمبلی سیکرٹریٹ کو آگاہ کر دیا۔ آئی جی پنجاب کو ارسال کی گئی رپورٹ میں وڈیو شواہد بھی موجود تھے۔اسمبلی ذرائع کے مطابق آئی پنجاب کو ارسال کی گئی رپورٹ میں قانونی کارروائی کی استدعا بھی کی گئی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ وزیراعلی کے پی کی آمد پر اپوزیشن نے ساتھ آنے والے مہمانوں کی صرف ناموں پر مشتمل فہرست دی، اپوزیشن کی جانب سے دی گئی نا کافی لسٹ کے باعث شناخت میں مشکلات پیش آئیں، مطیع اللہ برقی نام شخص نے جھوٹ بول کر اسمبلی میں داخلے کی کوشش کی، مطیع اللہ برقی نے کہا کے وہ خیبرپی کے پی کے 89 سے ایم پی اے اشفاق ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ صوبائی وزیر کے پی مینا خان نے اس بات کی تصدیق بھی کی کے مطیع اللہ برقی ایم پی اے اشفاق نہیں، مطیع اللہ برقی کو باہر جانے کا کہنے پر انہوں نے اسمبلی سکیورٹی کے ساتھ ہاتھا پائی کی اور گالم گلوچ کیا۔ اپوزیشن ارکان کی جانب سے دی گئی لسٹ میں شناختی کارڈ نمبر، تصاویر، گاڑیوں کے نمبر میں سے کچھ نہ تھا جس کے باعث شناخت میں مشکلات آئیں۔ سکیورٹی نے سب کو تحمل سے شناخت کی گزارش کی جس پر قافلے نے گالم گلوچ اور دھکم پیل کی،اپوزیشن کی جانب سے دی گئی لسٹ میں سزا یافتہ حیدر مجید کا نام بھی شامل تھا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسمبلی سیکرٹریٹ نے موقع پر موجود اسمبلی سکیورٹی کے بیانات بھی قلم بند کئے۔ پی ٹی آئی رہنما اور سابق صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے 9 مئی واقعات کی فرانزک رپورٹ پر کہا ہے کہ ڈھائی سال بعد غیر مصدقہ ویڈیوز کی بنیاد پر میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے۔ 9 مئی کو ریڈیو پاکستان پر حملہ ٹرائل کے بعد خارج ہو چکا ہے۔ میرا نام ایف آئی آر نمبر 221 میں ہے نہ ہی کسی ضمنی چالان میں مرکزی کیس میں ہمیں بری کیا گیا اور استغاثہ کا موقف عدالت میں ریزہ ریزہ ہوا۔ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ وائرل سکرین شارٹس کا ریڈیو پاکستان واقعے سے کوئی تعلق نہیں اور ایک ویڈیو پشاور کی ہے۔ یہ مہم وزیراعلیٰ اور ان افراد کے خلاف ہے جنہیں کبھی مقدمے میں نامزد نہیں کیا گیا۔ خیال رہے کہ پنجاب فرانزک لیبارٹری نے پشاور میں 9 مئی واقعات کی ویڈیوز کی رپورٹ میں وزیراعلیٰ خیبر پی کے سہیل آفریدی، کامران بنگش، تیمور جھگڑا اور عرفان سلیم کی موجودگی کی تصدیق کر دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پنجاب فرانزک لیبارٹری کی پروفائل تصویر مطیع اللہ برقی مئی واقعات کی سہیل ا فریدی تیمور جھگڑا رپورٹ میں کی ویڈیو کی تصدیق کے مطابق سلیم کی کی گئی
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔