فرعون، نمرود اور رضا شاہ کے ساتھ جو ہوا وہی ٹرمپ کے ساتھ ہوگا: آیت اللّٰہ خامنہ ای
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ فرعون، نمرود اور رضا شاہ کے ساتھ جو ہوا وہی ٹرمپ کے ساتھ ہو گا۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ غرور میں ڈوبا ایک شخص پوری دنیا کے فیصلے کر رہا ہے۔
آیت اللّٰہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ اقتدار کے عروج پر طاقتور ترین حکمرانوں کے ساتھ کیا ہوا۔
واضح رہے کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا اور اسرائیل کو ایران میں فسادات کا ذمہ دار قرار دے دیا ہے۔
ایرانی میڈیا کو انٹرویو میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ ’امریکا، اسرائیل لوگوں کو ہدایات دے رہے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں جاؤ تخریب کاری کرو، یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے ایران پر حملہ کیا۔‘
ایرانی صدر نے یہ بھی کہا کہ ’کسی غیر ملکی کو قوم میں انتشار کے بیج بونے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘
دوسری جانب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران مذاکرات کرنا چاہتا ہے، ملاقات کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ ایران کے خلاف بہت طاقتور آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے ساتھ
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔