فرعون، نمرود اور رضا شاہ کے ساتھ جو ہوا وہی ٹرمپ کے ساتھ ہوگا: آیت اللّٰہ خامنہ ای
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ فرعون، نمرود اور رضا شاہ کے ساتھ جو ہوا وہی ٹرمپ کے ساتھ ہو گا۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ غرور میں ڈوبا ایک شخص پوری دنیا کے فیصلے کر رہا ہے۔
آیت اللّٰہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ اقتدار کے عروج پر طاقتور ترین حکمرانوں کے ساتھ کیا ہوا۔
واضح رہے کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا اور اسرائیل کو ایران میں فسادات کا ذمہ دار قرار دے دیا ہے۔
ایرانی میڈیا کو انٹرویو میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ ’امریکا، اسرائیل لوگوں کو ہدایات دے رہے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں جاؤ تخریب کاری کرو، یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے ایران پر حملہ کیا۔‘
ایرانی صدر نے یہ بھی کہا کہ ’کسی غیر ملکی کو قوم میں انتشار کے بیج بونے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘
دوسری جانب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران مذاکرات کرنا چاہتا ہے، ملاقات کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ ایران کے خلاف بہت طاقتور آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے ساتھ
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔