قطر میں سابق بھارتی نیوی افسر کی دوبارہ گرفتاری، بھارت کیلئے نئی سفارتی مشکل
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
نئی دہلی / دوحہ: قطر میں سابق بھارتی بحریہ کے افسر کمانڈر پورنیندو تیواری کی دوبارہ گرفتاری کی تصدیق ہو گئی ہے، جس کے بعد بھارتی فوج سے متعلق ایک پرانا اور حساس معاملہ ایک بار پھر عالمی سطح پر زیرِ بحث آ گیا ہے۔
بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق بھارتی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ کمانڈر پورنیندو تیواری کو قطر میں دوبارہ حراست میں لیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ انہیں اگست 2022 میں سات دیگر سابق بھارتی نیوی افسران کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اکتوبر 2023 میں قطری عدالت نے آٹھ سابق بھارتی بحریہ کے افسران کو جاسوسی کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی، جس پر بھارت میں شدید تشویش پائی گئی۔ بعد ازاں بھارتی حکومت کی سفارتی کوششوں کے باوجود فروری 2024 میں پورنیندو تیواری کو سنگین الزامات کے باعث بھارت کے حوالے نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیںعالمی تبدیلی کے تناظر میں مودی کی ناکام خارجہ پالیسی کڑی تنقید کا شکار
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف ایک فرد یا ایک کیس تک محدود نہیں بلکہ اس سے بھارتی فوج کی پیشہ ورانہ ساکھ، عسکری تربیت اور داخلی نظم و ضبط پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بھارتی فوج کو ماضی میں بھی بدعنوانی، اندرونی کرپشن اور اخلاقی مسائل جیسے الزامات کا سامنا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک بھارتی فوجی افسران کی گرفتاریوں نے بھارت کی سفارتی مشکلات میں اضافہ کیا ہے اور اس سے عالمی سطح پر بھارت کی عسکری شبیہ متاثر ہو رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سابق بھارتی
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔