کراچی میں آتشزدگی کے بڑھتے واقعات، فائر بریگیڈ کو عملےکی کمی کا سامنا
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
کراچی(نیوز ڈیسک) شہر قائد میں آتشزدگی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر بلدیہ عظمیٰ کراچی (کے ایم سی) کے محکمہ فائر بریگیڈ کو شدید افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے۔
ذرائع کے مطابق اہم ہنگامی ادارے میں 16 سال بعد بھرتیوں کے لیے اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔
کے ایم سی کے محکمہ فائر بریگیڈ میں گریڈ 1 سے گریڈ 17 تک مجموعی طور پر 440 آسامیاں خالی ہیں جن کی تفصیلات طلب کر لی گئی ہیں، محکمہ فائر بریگیڈ میں اس وقت مجموعی طور پر 1353 ملازمین کی کیپسٹی ہے تاہم صرف 913 ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق گریڈ 17 میں ڈپٹی ڈائریکٹر کی ایک آسامی جبکہ اسٹیشن آفسرز کی 22 میں سے 8 آسامیاں طویل عرصے سے خالی ہیں، گریڈ 14 کے سینئر کلرک کی 9 میں سے 8 آسامیاں خالی ہیں۔
گریڈ 12 میں سب فائر آفسر کی 35 میں سے 7 آسامیاں، فور مین کی دونوں پوسٹس اور وائرلیس مکینک کی آسامی خالی ہے، گریڈ 11 میں ٹیلیفون آپریٹر کی ایک جبکہ گریڈ 10 میں لیڈنگ فائر مین کی 111 میں سے 34 آسامیاں خالی پڑی ہیں۔
محکمہ فائر بریگیڈ میں گریڈ 5، 7 اور 8 کے ڈرائیورز کی 242 میں سے 149 آسامیاں خالی ہیں، گریڈ 7 میں مکینک کی 4، آٹو الیکٹریشن کی 3 اور ایمبولینس اٹینڈنٹ کی 2 آسامیاں بھی خالی ہیں، گریڈ 5 میں فائر مین کی 777 میں سے 207 آسامیاں، ایمبولینس حوالدار کی ایک اور سینیٹری ورکرز کی 7 آسامیاں خالی پڑی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ 16 برسوں کے دوران ملازمین کے انتقال، آتشزدگی کے واقعات میں شہادت یا زخمی ہونے اور ریٹائرمنٹ کے باعث یہ آسامیاں خالی ہوئیں۔
واضح رہے کہ محکمہ فائر بریگیڈ میں آخری مرتبہ سال 2009 میں بھرتیاں کی گئی تھیں جس کے بعد سے افرادی قوت میں مسلسل کمی واقع ہوتی جا رہی ہے جو شہر میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے میں ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: محکمہ فائر بریگیڈ میں آسامیاں خالی خالی ہیں
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔