کراچی(نیوز ڈیسک) شہر قائد میں آتشزدگی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر بلدیہ عظمیٰ کراچی (کے ایم سی) کے محکمہ فائر بریگیڈ کو شدید افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے۔

ذرائع کے مطابق اہم ہنگامی ادارے میں 16 سال بعد بھرتیوں کے لیے اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔

کے ایم سی کے محکمہ فائر بریگیڈ میں گریڈ 1 سے گریڈ 17 تک مجموعی طور پر 440 آسامیاں خالی ہیں جن کی تفصیلات طلب کر لی گئی ہیں، محکمہ فائر بریگیڈ میں اس وقت مجموعی طور پر 1353 ملازمین کی کیپسٹی ہے تاہم صرف 913 ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق گریڈ 17 میں ڈپٹی ڈائریکٹر کی ایک آسامی جبکہ اسٹیشن آفسرز کی 22 میں سے 8 آسامیاں طویل عرصے سے خالی ہیں، گریڈ 14 کے سینئر کلرک کی 9 میں سے 8 آسامیاں خالی ہیں۔

گریڈ 12 میں سب فائر آفسر کی 35 میں سے 7 آسامیاں، فور مین کی دونوں پوسٹس اور وائرلیس مکینک کی آسامی خالی ہے، گریڈ 11 میں ٹیلیفون آپریٹر کی ایک جبکہ گریڈ 10 میں لیڈنگ فائر مین کی 111 میں سے 34 آسامیاں خالی پڑی ہیں۔

محکمہ فائر بریگیڈ میں گریڈ 5، 7 اور 8 کے ڈرائیورز کی 242 میں سے 149 آسامیاں خالی ہیں، گریڈ 7 میں مکینک کی 4، آٹو الیکٹریشن کی 3 اور ایمبولینس اٹینڈنٹ کی 2 آسامیاں بھی خالی ہیں، گریڈ 5 میں فائر مین کی 777 میں سے 207 آسامیاں، ایمبولینس حوالدار کی ایک اور سینیٹری ورکرز کی 7 آسامیاں خالی پڑی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ 16 برسوں کے دوران ملازمین کے انتقال، آتشزدگی کے واقعات میں شہادت یا زخمی ہونے اور ریٹائرمنٹ کے باعث یہ آسامیاں خالی ہوئیں۔

واضح رہے کہ محکمہ فائر بریگیڈ میں آخری مرتبہ سال 2009 میں بھرتیاں کی گئی تھیں جس کے بعد سے افرادی قوت میں مسلسل کمی واقع ہوتی جا رہی ہے جو شہر میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے میں ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: محکمہ فائر بریگیڈ میں آسامیاں خالی خالی ہیں

پڑھیں:

کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ

مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔

مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی