ملک بھر میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف کارروائی: 24 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی منشیات برآمد، 5 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ملک بھر میں تعلیمی اداروں اور مختلف شہروں میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے 24 کروڑ 48 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی 258.94 کلوگرام منشیات برآمد کیں اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا۔
ترجمان اے این ایف کے مطابق کارروائیاں مجموعی طور پر 9 مقامات پر کی گئیں، جن میں تعلیمی اداروں کے اطراف بھی شامل تھے۔ ساہو چوک ملتان کے قریب ایک ملزم کے بیگ سے 2 کلوگرام آئس برآمد ہوئی، جس نے طلبہ کو منشیات فروخت کرنے کا اعتراف کیا۔ اسی طرح گلبرگ لاہور میں کوریئر آفس سے سعودی عرب بھیجے جانے والے پارسل سے 2.
مزید برآں لاہور کے شاہ جمال روڈ میں برطانیہ جانے والے پارسل سے 6.72 کلوگرام وزنی 67200 والیم گولیاں برآمد کی گئیں۔ پشاور رنگ روڈ کے قریب ایک گاڑی سے 15.6 کلوگرام افیون، انڈس ہائی وے کوہاٹ کے قریب 10.8 کلوگرام چرس اور فتح جنگ ٹول پلازہ اسلام آباد کے قریب 2.4 کلوگرام چرس برآمد ہوئی۔ جی ٹی روڈ لاہور پر کراچی سے آنے والے پارسل سے 20.16 کلوگرام والیم گولیاں جبکہ ویسٹرن بائی پاس ہزار گنجی کوئٹہ کے قریب 198 کلوگرام ہیروئن برآمد ہوئی۔
اے این ایف کے مطابق تمام کارروائیوں کے دوران انسداد منشیات ایکٹ 1997 کے تحت مقدمات درج کر کے تحقیقات کا آغاز کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: برآمد ہوئی کے قریب
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔