رجب بٹ کی پرانی تصاویر وائرل، صارفین کے دلچسپ تبصرے
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
معروف پاکستانی یوٹیوبر رجب بٹ کی پرانی تصاویر وائرل ہوگئیں جس پر صارفین کی جانب سے دلچسپ تبصرے کیے جارہے ہیں۔
مشہور پاکستانی یوٹیوبر رجب بٹ اکثر اپنی ذاتی زندگی کے باعث خبروں میں رہتے ہیں، وہ کبھی اپنے بیانات تو کبھی اپنے کیسز کی وجہ سے سرخوں میں آتے ہیں۔
متنازع بیانات اور رویے کے باوجود یوٹیوبر کے چاہنے والوں کی تعداد لاکھوں میں اور صرف یوٹیوب پر ان کے 83 لاکھ 40 ہزار سبسکرائبرز جب کہ انسٹاگرام پر 29 لاکھ فالوورز ہیں۔
دو روز قبل، ہی رجب بٹ کی اہلیہ ایمان رجب کی اپنی ساس کے ساتھ مبینہ وائس نوٹ لیک ہوگئی، لیک ہونے والے وائس نوٹ میں ایمان رجب روتے ہوئے اپنی ساس سے بات کرتی سنائی دیتی ہیں جس میں وہ اپنے بیٹے کیوان کا ذکر وی لاگز میں نہ کرنے کی درخواست کرتی ہیں۔
مزید پڑھیںرجب بٹ کی اہلیہ ایمان رجب کی اپنی ساس کے ساتھ مبینہ وائس نوٹ لیک ہوگئی
سوشل میڈیا پر اب رجب بٹ کی پرانی تصاویر وائرل ہورہی ہیں، مداحوں کی جانب سے یوٹیوبر کی پرانی شکل و صورت کی تصاویر شیئر کی جارہی ہیں۔
علاوہ ازین، یوٹیوب پر رجب بٹ کے ظاہری انداز میں تبدیلی کے سفر کی ایک ویڈیو بھی گردش کر رہی ہے، جس میں 2011 سے 2025 تک کا ان کا سفر دکھایا گیا ہے۔
یہ تصاویر عوامی توجہ حاصل کر رہی ہیں، جس کی وجہ ان کا عجیب اور حیران کن طور پر دیسی اسٹائل ہے اور صارفین کی جانب سے ان تصاویر پر دلچسپ تبصرے کیے جارہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔