وزیرداخلہ محسن نقوی کی ٹانک دھماکے کی شدید مذمت، شہید پولیس اہلکاروں کو خراجِ عقیدت
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے ٹانک میں پولیس کی بکتر بند گاڑی کے قریب ہونے والے بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے، جس میں ایڈیشنل ایس ایچ او سمیت 5 پولیس اہلکار جامِ شہادت نوش کر گئے۔
وفاقی وزیرداخلہ نے دھماکے میں شہید ہونے والے پولیس افسران اور جوانوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔
محسن نقوی نے کہا کہ پولیس کے بہادر جوانوں نے اپنا آج قوم کے پُرامن کل پر قربان کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہداء کی عظیم قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
وفاقی وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ شہداء ہمارا فخر ہیں اور پوری قوم ان کی لازوال قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔
محسن نقوی نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹانک دھماکا وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹانک دھماکا وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی محسن نقوی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔