زکام مردوں اور خواتین پر مختلف اثر کیوں ڈالتا ہے؟ ماہرین نے وجہ بتا دی
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سرد موسم کے آغاز کے ساتھ ہی نزلہ، زکام اور فلو کے کیسز میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، لیکن نئی طبی تحقیقات یہ بات سامنے لاتی ہیں کہ یہ بیماری مردوں اور خواتین پر یکساں اثر نہیں ڈالتی، بلکہ علامات کی شدت اور نوعیت دونوں میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کا مدافعتی نظام وائرس کے خلاف زیادہ تیزی سے ردعمل دیتا ہے، خواتین کے جسم میں موجود ایسٹروجن ہارمون مدافعتی خلیات کی سرگرمی اور اینٹی باڈیز کی پیداوار کو بڑھاتا ہے، جس سے انفیکشن کے خاتمے میں مدد ملتی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ جسم میں سوزش بڑھنے کی وجہ سے عورتیں زیادہ تھکن، جسمانی درد اور سر درد جیسے آثار زیادہ دنوں تک محسوس کرتی ہیں۔
اس کے برعکس مردوں میں موجود ٹیسٹوسٹیرون ہارمون سوزش کو کم کرتا ہے، جس کی وجہ سے ابتدائی طور پر علامات نسبتاً ہلکی محسوس ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مرد اکثر بیماری کو سنجیدگی سے نہیں لیتے اور ڈاکٹر کے پاس دیر سے جاتے ہیں۔ البتہ کچھ صورتوں میں مردوں کو تیز بخار بھی لاحق ہو سکتا ہے کیونکہ ٹیسٹوسٹیرون دماغ کے درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے والے حصے کو متاثر کرتا ہے۔
تحقیقی مشاہدات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ خواتین بیماری کے دوران اپنی صحت پر زیادہ توجہ دیتی ہیں اور علاج جلد شروع کرواتی ہیں، جبکہ مرد اکثر علامات بڑھنے تک انتظار کرتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ عام فہم میں “مین فلو” کا مذاق چلتا ہے، حالانکہ حقیقی طور پر خواتین زیادہ شدت اور زیادہ عرصے تک نزلہ اور زکام کے اثرات برداشت کرتی ہیں۔
ایک مطالعے کے نتائج کے مطابق جس میں انٹرو وائرس، کورونا وائرس اور انفلوئنزا کے مریض شامل تھے، خواتین میں شدید تھکن اور جسمانی درد کے امکانات مردوں کی نسبت دوگنا زیادہ تھے اور یہ علامات ابتدائی دنوں کے بعد بھی برقرار رہتی ہیں۔ مردوں میں علامات ابتدا میں ہلکی لیکن بعد میں شدت اختیار کرتی ہیں اور نسبتاً کم وقت میں بہتر ہو جاتی ہیں۔
ماہرین مزید بتاتے ہیں کہ ذہنی دباؤ بھی بیماری کی شدت اور مدت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ خواتین میں زیادہ دباؤ کے باعث علامات دیر تک قائم رہ سکتی ہیں، جبکہ مرد دباؤ کے اثرات کو ظاہر نہیں کرتے، لیکن یہ لاحق پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔
ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ اس فرق کو سمجھنا علاج اور احتیاط کے لیے نہایت ضروری ہے۔ خواتین کے لیے زیادہ آرام، مناسب پانی اور ہلکی غذا اہم ہے، جبکہ مردوں کو قوت مدافعت بڑھانے والی غذائیں، جیسے وٹامن ڈی اور زنک، فائدہ دے سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق نزلہ، زکام اور فلو سب کو لاحق ہو سکتا ہے، لیکن ہر فرد پر اس کے اثرات مختلف ہوتے ہیں۔ اس لیے اپنی جسمانی علامات کو سمجھ کر ہی مناسب احتیاط اور علاج کرنا مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
نیویارک شہر کے کم عمر باسکٹ بال شائقین کے لیے ’بیڈ ٹائم‘ سے متعلق ایک دلچسپ خبر سامنے آئی ہے۔
نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے ایک خصوصی انتظامی حکم نامے پر دستخط کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ این بی اے فائنلز کے دوران بچوں کے سونے کے معمول کے اوقات عارضی طور پر منسوخ تصور کیے جائیں گے تاکہ وہ اپنی پسندیدہ ٹیم نیویارک نکس کے تمام میچز بلا رکاوٹ دیکھ سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: نماز عیدالاضحیٰ: نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی منفرد انداز میں شرکت
یکم جون کو جاری کیے گئے اس علامتی حکم نامے میں کہا گیا کہ سونے کے اوقات ’نیویارک کے سب سے پیارے بچوں‘ کو نکس کی حوصلہ افزائی کرنے اور میچ کا ایک ایک لمحہ دیکھنے سے نہیں روک سکتے۔
اس موقع پر میئر ممدانی کے ساتھ نکس کے رنگوں میں ملبوس بچوں کا ایک گروپ بھی موجود تھا، جنہوں نے اپنے ہاتھوں کے نشانات لگا کر علامتی طور پر اس حکم نامے پر دستخط کیے۔
Today, I signed an Executive Order temporarily repealing bedtimes in the City of New York so that kids of all ages can watch our team in the NBA Finals.
As Mayor, you’re forced to make many difficult decisions. This was not one of them.
Go Knicks. pic.twitter.com/DqjNtVh17h
— Mayor Zohran Kwame Mamdani (@NYCMayor) June 1, 2026
میئر ممدانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ میئر کی حیثیت سے آپ کو کئی مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں، لیکن یہ ان میں سے ایک نہیں تھا۔
انہوں نے اپنی پوسٹ کے اختتام پر ’گو نکس‘ کا نعرہ بھی لگایا۔
این بی اے فائنلز میں نیویارک نکس اور سان انتونیو اسپرس کے درمیان تمام میچز رات ساڑھے 8 بجے (مشرقی امریکی وقت) شروع ہوں گے۔
سیریز کے پہلے، تیسرے اور چوتھے میچ تعلیمی دنوں سے قبل رات کو کھیلے جائیں گے، جبکہ اگر ضرورت پڑی تو چھٹا میچ بھی اسکول کی رات میں ہوگا۔
ایسے میں بچوں کے لیے دیر تک جاگ کر میچ دیکھنا ایک اہم مسئلہ بن سکتا تھا۔
مزید پڑھیں: ظہران ممدانی کی نیو یارک میں اسٹیٹ ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
نیویارک نکس کی این بی اے فائنلز میں رسائی شہر بھر میں غیرمعمولی جوش و خروش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
یہ 1999 کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ نکس فائنلز میں پہنچی ہے، آخری بار فائنلز میں انہیں ٹم ڈنکن اور ڈیوڈ رابنسن کی قیادت میں سان انتونیو اسپرس نے شکست دی تھی۔
نکس کی 27 سالہ طویل انتظار کے بعد فائنلز میں واپسی نے باسکٹ بال کے دیوانے نیویارک شہر کو یکجا کر دیا ہے۔
اسپورٹس تجزیہ کاروں کے مطابق نیویارک میں نکس کا فائنلز میں پہنچنا سپر باؤل سے بھی بڑا واقعہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
باسکٹ بال سان انتونیو اسپرس ظہران ممدانی میئر نیویارک نیویارک نکس